ٹوبہ ٹیک سنگھ (نامہ نگار) تحصیل ایجوکیشن کی ہدایات کو عملا پسِ پشت ڈالتے ہوئے من مانی فیسوں اور غیر قانونی وصولیوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران دو ماہ کی یکمشت فیسوں کی وصولی، سمر پیکجز، مختلف فنڈز اور دیگر متفرق اخراجات کے نام پر والدین سے بھاری رقوم بٹوری جا رہی ہیں، جس پر شہری حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق متعدد نجی تعلیمی ادارے، جو جدید سولر سسٹمز پر منتقل ہو چکے ہیں، ائیرکنڈیشنڈ کلاس رومز کی سہولت کا جواز پیش کرتے ہوئے فی طالبعلم 300سے 500 روپے ماہانہ اضافی وصول کر رہے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور والدین اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلی پنجاب، وزیر تعلیم اور سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب کی مسلسل خاموشی پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا حکومتی رِٹ نجی تعلیمی مافیا کے سامنے بے اثر ہو چکی ہے یا بااثر تعلیمی اداروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ سکول مالکان کی جانب سے جاری یہ مالی استحصال حکومتی نگرانی کے فقدان اور متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شہریوں، والدین، سماجی کارکنوں اور مختلف عوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے کی جانے والی غیر قانونی وصولیوں، اضافی فیسوں اور مالی بے ضابطگیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔




