لاہور (بیوروچیف) محکمہ تحفظ ماحول و موسمیاتی تبدیلی پنجاب کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران خطیر بجٹ مختص کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ محکمہ نے مجموعی طور پر 20ارب 35کروڑ روپے کے بجٹ کی تجاویز متعلقہ فورم کو ارسال کر دی ہیں۔دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں نئی ترقیاتی سکیموں کے لیے 5ارب 48کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ فضائی آلودگی کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے لاہور سمیت صوبے بھر میں 44ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز کی تکمیل کے لیے 2ارب 86کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔محکمہ نے فیول ٹیسٹنگ کوالٹی لیبارٹریز کے قیام اور اپ گریڈیشن کے لیے 31کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ سموگ کے تدارک کے لیے صوبے کے 10زونز میں ماحولیاتی فورس کے قیام و آپریشنز کے لیے 87 کروڑ 58لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔بجٹ تجاویز کے مطابق سی ایم گرین کریڈٹ پروگرام کے لیے 50کروڑ روپے اور پنجاب ایئر سیف پروگرام کے لیے 74 کروڑ 17لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے اخراج (ایمیشن) کی جانچ کے جدید نظام کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔لاہور میں فضائی معیار کی بہتری کے لیے لاہور ایئر امپروومنٹ فریم ورک کے تحت 58 کروڑ 70 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
جبکہ بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے 4 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔سموگ کے خلاف اقدامات کو مزید مثر بنانے کے لیے سموگ گنز سے لیس الیکٹرک ٹرکوں کی خریداری کے لیے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔محکمہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبوں کا مقصد فضائی آلودگی اور سموگ پر قابو پانا، ماحولیاتی نگرانی کے نظام کو جدید بنانا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبے کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔




