فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) چار سال قبل تھانہ چک جھمرہ کے علاقہ 105 رب قاضی والا میں ہونے والے پولیس مقابلے کے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے معزز عدالت نے سابق ڈی ایس پی سرکل نشاط آباد جو اس وقت کے قائم مقام ایس ایچ او چک جھمرہ تھے سمیت تمام پولیس اہلکاروں کو بری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق چار سال قبل ڈولفن فورس نے دو مسلح بین الاضلاعی ڈاکوئوں کا تعاقب کیا۔ تعاقب کے دوران ملزمان قریبی کماد کی فصل میں چھپ گئے۔ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی ون فائیو کال پر اس وقت کے قائم مقام ایس ایچ او رانا عمر دراز خان بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ ڈاکوں نے خود کو گھرا ہوا دیکھ کر فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ بالآخر پولیس کی جوابی کارروائی میں دونوں مسلح ڈاکو ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے ملزمان کے خلاف قتل، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے درجنوں مقدمات مختلف اضلاع میں درج تھے۔واقعہ کے بعد ہلاک ڈاکوئوں کے ورثاء نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹوں کو گھر سے اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا اور پولیس مقابلہ جعلی تھا۔ اس حوالے سے رانا عمر دراز خان اور ان کی ٹیم کے خلاف استغاثہ ایڈیشنل سیشن جج مظفر علی انجم کی عدالت میں دائر کیا گیا جہاں کیس کی طویل سماعت جاری رہی۔دورانِ سماعت وکلا پینل رانا راحیل منہاس، رانا حسیب احمد خان، رانا عامر سلطان اور رانا یونس نے عدالت کے روبرو تفصیلی دلائل اور شواہد پیش کیے۔ مقدمے کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے سابق ڈی ایس پی رانا عمر دراز خان، سب انسپکٹر عباس شاہ (موجودہ ایس ایچ او ستیانہ)، ہیڈ کانسٹیبل عتیق الرحمن، کانسٹیبل شبیر اور کانسٹیبل منیب احمد سمیت دیگر اہلکاروں کو الزامات سے بری کر دیا۔ فیصلہ سنائے جانے کے بعد رانا عمر دراز خان نے اپنے ردعمل میں معزز عدلیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عدالتیں آج بھی حق اور سچ کی بالادستی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ انصاف کی فراہمی عدالتی نظام کی مضبوطی کا ثبوت ہے اور انہیں عدلیہ کے فیصلے پر مکمل اعتماد تھا۔عدالتی فیصلے کے بعد پولیس حلقوں، ساتھی اہلکاروں اور اہلِ علاقہ کی جانب سے رانا عمر دراز خان اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی گئی، جبکہ اس فیصلے کو انصاف کی فتح اور حقائق کی بنیاد پر دیا گیا ۔




