ٹیکس فراڈ کے فوجداری مقدمات کیلئے مالی حد5کروڑ کرنیکی تجویز

لاہور (بیوروچیف) پنجاب ریونیو اتھارٹی نے رسک بیسڈ آڈٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان، سپلائرز اور مالی لین دین کی نگرانی کیلئے ایک رسک رجسٹر قائم کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت مشکوک یا ہائی رسک کلیمز کو مخر، مسترد یا آڈٹ کیلئے منتخب کیا جا سکے گا، تاہم ٹیکس دہندگان کو کسی بھی کارروائی سے قبل سماعت اور اپیل کا مکمل حق حاصل ہوگا۔فنانس بل 2026میں جرمانوں کی شرح میں نمایاں اضافے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت ٹیکس انوائس جاری نہ کرنے پر پہلی خلاف ورزی پر 5لاکھ روپے اور دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ 10لاکھ روپے تک بڑھایا جا سکے گا، جبکہ ای انوائسنگ سسٹم میں چھیڑ چھاڑ یا بائی پاس کرنے پر بھی 5لاکھ روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس فراڈ کے فوجداری مقدمات کیلئے مالی حد 1کروڑ سے بڑھا کر 5کروڑ روپے کرنیکی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فنانس بل میں مختلف سروس سیکٹرز پر سیلز ٹیکس کی شرح 5فیصد سے بڑھا کر 8فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جن میں ریسٹورنٹس، کیٹرنگ، ٹور آپریٹرز، پراپرٹی ڈیلرز ، آرکیٹیکٹس، رینٹ اے کار، جم، فٹنس سروسز، لانڈری ، ویئر ہائوسنگ، آلات کرایہ پر دینے اور ٹیکس کنسلٹنسی سمیت رئیل اسٹیٹ مینجمنٹ سروسز شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں