بلب کی روشنی سے بجلی بنانے والا منفرد سولر پینل تیار

کراچی (بیوروچیف) سائنسدانوں نے ایک ایسا سولر پینل تیار کر لیا ہے جو سورج کی روشنی کے بغیر بھی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تیزی سے ترقی کرتے اس دور میں روز نت نئی چیزیں ایجاد ہو رہی ہیں، جو انسانوں کی زندگی کو سہل بنا رہی ہیں۔ توانائی بحران کے باعث دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں سولر پینلز کی مانگ بڑھی ہے، جو سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔تاہم اب سائنسدانوں نے ایک نئی قسم کا سول پینل ایجاد کر لیا ہے، جس کو بجلی بنانے کے لیے سورج کی روشنی کی ضرورت نہیں بلکہ وہ کمرے کے اندر موجود مصنوعی روشنی کے ذریعہ بھی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ جدید سولر پینلز پیرووسکائٹ کا استعمال کرتے ہوئے بنائے گئے ہیں، جس کو قابلِ تجدید توانائی کو بدل کر رکھ دینے کی صلاحیت کے لیے سراہا جاتا ہے۔سلیکون سے تیار کردہ سولر پینلز کے مقابلے میں سورج کی روشنی کو بجلی میں بدلنے کی شرح بہترین ہونے کی وجہ سے اس مواد کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ اس مٹیریل کو ایڈجسٹ کر کے کمرے میں موجود بلب یا دیگر مصنوعی روشنیوں سے بھی بجلی بنائی جا سکتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیرووسکائٹ میں معمولی نقص پیدا ہو گئے تھے، تاہم تائیوان کی نیشنل یینگ منگ چیاو ٹنگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیم نے ایک کیمیکل طریقے کا استعمال کرتے ہوئے مسئلے کو حل کیا ہے، جس سے یہ سولر سیلز روزانہ کے استعمال کے قابل ہو گئے ہیں۔محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ریموٹ کنٹرول اور پہننے والی ڈیوائس کو چارج کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں