خون سے روشن ہونے والی سحر

امام احمد بن حنبل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس بات کا جنازے فیصلہ کریں گے کہ اللہ تعالی کے کون کتنا قریب ہے۔ مذکورہ قول میں بہت بڑی حکمت بیان کی گئی ہے کیوں کہ جب انسان انسانوں کو اپنے کسی فعل سے خوش کردیتا ہے تو پھر انسانوں نے بھی تو کچھ نہ کچھ کرنا ہوتا ہے اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اپنے مہربان، محسن، استاد، باپ یا مرشد وغیرہ کو رخصت پورے بھار سے کیا جاتا ہے۔ جتنے زیادہ خیرخواہ ہونگے اتنے بڑے جنازے ہونگے تاہم استثنائی صورت حال کا امکان ہوتا ہے۔ عبد الستار ایدھی کا جنازہ دیدنی تھا اور اس طرح بے شمار بڑے بڑے جنازے میں نے بچشم خود دیکھے ہیں۔ کل کی بات نہیں ہے آج ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسین خامنہ ای کا جنازہ اور وہ بھی ایک آدھ جگہ نہیں ایران کے ہر اہم شہر میں تاحد نگاہ جم غفیر اور ماحول انتہائی افسردہ اور غمزدہ بلکہ ہر آنکھ اشک بار۔ کہیں تصنع اور بناوٹ نام کی چیز نہیں۔ صدق، سچائی اور اخلاص کا عملی مظاہرہ۔ آثار وواقعات ببانگ دہل کہہ رہے ہیں بلکہ فطرت پکار پکار کرکہہ رہی ہے ”شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے”۔ مر کر زندہ رہنے والے دلوں میں رہتے ہیں اور دلوں کو گرماتے ہیں تاکہ حق و باطل کے معرکے کی صورت میں خون جوش مارے اور جذبہ ایمانی سر چڑھ کر بولے۔ داخل اور خارج میں ہم آہنگی ہو تو ضمیر زندہ ہوتا ہے اور بات آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکی جاتی ہے۔ آپ کے دشمن سوچ سمجھ کربات کرتے ہیں اور اگر ان کے منہ سے کوئی بات نکل بھی جائے تو بات آئی گئی ہو جاتی ہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے اور تجارت کے راستوں پر پہرے بٹھا دیئے جاتے ہیں۔ یوں سوچوں کی دنیا کے کردار بھی سوچ سمجھ کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور سارے ہم نوا پیچھے ہٹنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اس ساری صورتحال کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے اور خصوصاً قربانی کے لئے خون دینا پڑتا ہے۔ علامہ محمد اقبال کے بقول خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا اور بقول راقم الحروف (جو آفتاب نکلا ہے اک خون شب کے بعد۔۔۔۔ تاروز حشر اس کا اجالا نہ جائیگا) خیر آگے بڑھ کر کھیلنا پڑتا ہے تب جا کر حوصلے اور ہمت سے ملکوں کی تقدیریں بدلی جا سکتی ہیںآیت اللہ علی حسین خامنہ ای 19اپریل 1939کو پیدا ہوئے۔ وہ ایک ایرانی سیاستدان اور شیعہ عالم دین تھے۔ جنہوں نے 1989سے اپنی شہادت تک ایران کے دوسرے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ وہ خاندان خامنہ ای کے رکن تھے اور انہیں آیت اللہ العظمی کا درجہ حاصل تھا۔ اس سے قبل وہ 1981سے 1989 تک ایران کے صدر کے منصب پر فائز رہے۔ سپریم لیڈر کے طور پر ان کی 36سالہ مدت قیادت نے انہیں اپنی وفات کے وقت مغربی ایشیا کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے سربراہان مملکت میں شامل کردیا تھا۔ ایران کا انقلاب اور اپنے دور کا بہت بڑا انقلاب۔ امام آیت اللہ خمینی پہلے سپریم کمانڈر اور یہ وہ شخصیت تھی جس نے نہ صرف اس وقت کی بہت بڑی شہنشاہیت کو للکارا بلکہ رضا شاہ پہلوی شاہ ایران کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ خالص اسلامی انقلاب۔ شریعت کی نہ صرف بات کی گئی بلکہ شریعت کو عملی طور پر لاگو کیا گیا۔ ایران عراق دس سالہ جنگ نے بھی ایران کے حوصلے پست نہیں کئے اس سے بڑھ کر ایران پر ہر قسم کی پابندیاں اور ان پابندیوں کے دوران ایران کا سرخرو ہونا۔ امام خمینی کی وفات کے بعد علی حسین خامنہ ای کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری، عوام کی توقعات اور بین الاقوامی صورتحال۔ ایران ایران اور ایران کا جوہری پروگرام۔ ایک ہی آواز اور مصمم عہد ”جوہری پروگرام ہر گز قبول نہیں”۔ امریکہ اور اسرائیل کا ایک پیج پر ہونا اور ہر وقت اس پر مصر ہونا۔ ایرانی قیادت کا ایک دوسرے پر باہمی اعتماد اور ایرانی عوام کا قیادت پر بھرپور اعتماد۔ اور یوں امریکہ اور اسرائیل کا شدید ردعمل، دھمکیاں اور بالاخر جنگ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور گریٹر اسرائیل کا دعویدار نیتن یاہو۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ساری دنیا پر تیسری جنگ عظیم کے بادل منڈلانے لگے اور سب خوف وہراس کی کیفیت میں۔ ساری نظریں ایران پر اور جنگ کے شروع میں ہی ایران کی قیادت کا مارا جانا لیکن ایران کی عوام کا غیر متزلزل حوصلہ اور اعتماد۔ کسی بھی بڑے لیڈر کا جانشین ہونا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اکثر مسائل اِدھر اُدھر سے نکل آتے ہیں اور عظمت کے تسلسل کو آگے بڑھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ شہید علی حسین کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے امام خمینی کی تحریک کو آگے بڑھایا۔ لوگوں کے اعتماد پر پورا اترے اور جب حالات جنگ کے دنوں میں بالکل ہی بے قابو ہوگئے تو انہوں نے بینکر میں چھپنے کی بجائے واصل بالحق ہونے کو ترجیح دیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے شہید ہونے سے پہلے سب قسم کے پلان بھی اپنی قوم کو تیار کرکے دیئے اور بالآخر آبنائے ہر مز سٹریٹ نے ٹرمپ اور اس کی ساری ٹیم کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ ان احسانات کی بدولت قوم نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کرکے بھرپور شوق اور جذبے کا مظاہرہ کیا قوموں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عزت، وقار اور سربلندی محض نعروں، خواہشوں اور دعوئوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایثار، قربانی، استقامت اور کردار کی مضبوطی اس کی حقیقی بنیادیں ہیں۔ جو افراد اپنی ذات سے بلند ہو کر اجتماعی مفاد، حق اور سچائی کے لیے جیتے ہیں، وہ جسمانی طور پر رخصت ہونے کے باوجود دلوں، ذہنوں اور تاریخ کے اوراق میں زندہ رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی یادیں محض ماضی کا سرمایہ نہیں ہوتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے حوصلے، عزم اور عمل کی مشعل بن جاتی ہیں۔ یہی وہ روشنی ہے جو قوموں کو اندھیروں سے نکال کر ترقی، خودداری اور باوقار مستقبل کی جانب لے جاتی ہے سوچ اور فکر کی شہید خامنہ ای نے جو شمع جلائی ہے اس کی روشنی میں مسلمان قوم کو ایک ہی صف میں کھڑا ہونا ہوگا اور متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا تاکہ مسلمان دشمن قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے اور گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھنے والوں کے خواب چکنا چور کئے جا سکیں۔ مختصر یہ کہ علی حسین خامنہ ای شہید نے حریت اور بہادری کا ایک ماڈل پیش کیا ہے جس کی سب مسلمان حکمرانوں کو پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں