واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک اور بڑے فوجی آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14جولائی کی رات ایران میں درجنوں فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر اپنی بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہی، جس کا اختتام امریکی مشرقی وقت کے مطابق رات 10بجے ہوا۔ اس دوران لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں سے جدید اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔بیان کے مطابق حملوں کا مرکز آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی فوجی تنصیبات اور ساحلی علاقے تھے۔ امریکی افواج نے ایرانی میزائل اور ڈرون مراکز، بحری صلاحیتوں، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری عملے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔امریکا نے اسی روز شام 4بجے سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف آنے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی تمام فورسز مکمل طور پر چوکس، جنگی کارروائی کے لیے تیار اور صدرِ امریکا کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل امریکی حملوں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کے امن سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی برادری دونوں ممالک سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔دریں ثناء ۔تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میںدشمن کے اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب تک جارح امریکا موجود رہے گا، تیل و گیس خطے سے باہر نہیں جائے گا، امریکا کے جارحانہ اقدامات کا آبنائے ہرمز کھلنے میں تاخیر کے سوا کوئی نتیجہ نہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ کویت کی علی سالم ایئربیس میں ڈرون لانچنگ پیڈ کو نشانہ بنایا گیا ہے، کویت میں حملے ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔دریں ثناء ۔واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہہ دوں کہ بس بہت ہوگیا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے گزشتہ روز ایران کے ساتھ بات چیت کی ہے اور ایران پر معاہدہ کرنے پر زور دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا اور مذاکرات پر آمادہ نہ ہوئے تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم ان کے تمام بجلی گھر اور تمام پل تباہ کر دیں گے۔ایران کو بری طرح نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ابھی کچھ جنگ لڑنے کی صلاحیت باقی ہے، لیکن یہ بہت زیادہ نہیں ہے۔قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر 20فیصد ٹیکس لینے کے اعلان پر 24گھنٹے سے بھی کم وقت میں یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس لینے کا خیال ہی ان کے لیے ناپسندیدہ ہے۔




