واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطی اور یوکرین کی جنگوں کے باعث عالمی ڈیزل سپلائی شدید دبائو کا شکار ہوگئی، جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما کے دوران ایندھن کی طلب بڑھنے سے بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہیبلومبرگ کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں، خلیج فارس کی ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصانات اور روسی تیل تنصیبات پر یوکرینی حملوں نے ڈیزل کی عالمی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطی اور روس گزشتہ سال دنیا کی مجموعی ڈیزل برآمدات کا تقریبا ایک تہائی حصہ فراہم کرتے تھے، تاہم جنگی صورتحال کے باعث ان خطوں سے عالمی مارکیٹ کو ملنے والی سپلائی محدود ہوگئی ہے۔مشرقِ وسطی میں جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جبکہ خلیج فارس میں ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصانات نے ڈیزل کی پیداوار اور برآمدات پر مزید دبا ڈال دیا۔دوسری جانب یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریوں پر کیے جانے والے حملوں نے بھی روس سے عالمی مارکیٹ کو ڈیزل کی سپلائی متاثر کرنے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق صورتحال ایسے وقت میں سنگین ہورہی ہے جب شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما قریب ہے اور اس دوران ڈیزل اور دیگر ایندھن کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ڈیزل دنیا بھر میں ٹرکوں، بسوں، زرعی مشینری، صنعتی آلات اور دیگر بھاری گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی سپلائی میں رکاوٹ صرف توانائی کی مارکیٹ ہی نہیں بلکہ نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔جنگی صورتحال برقرار رہنے اور بڑی تیل پیدا کرنے والی ریفائنریوں سے برآمدات محدود رہنے کی صورت میں آنے والے مہینوں میں ڈیزل کی عالمی مارکیٹ پر مزید دبا آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔




