اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان ایرانی قیادت کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے نمایاں خد و خال سے آگاہ کریگا۔ ایرانی رہنماوں کو پاکستان کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت ،دورہ اس ماہ کے آخر میں ہو سکتا ہے، سفارتی ذرائع ،پاکستان، ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی کے رواں ماہ کے آخر میں دورہ اسلام آباد کے دوران، ایرانی قیادت کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے) کی نمایاں خصوصیات سے آگاہ کرے گا۔ پاکستان نے ایرانی دارالحکومت میں متعلقہ حکام کو دورے کی باضابطہ دعوت نامہ پہنچا دیا ہے۔ اتوار کی شام تہران سے جنگ کو باخبر سفارتی ذرائع نے بتایا کہ اومان کی وساطت سے فریقین کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے بعد، ایرانی دارالحکومت میں شروع ہونے والے ہفتے کے دوران انتہائی گہما گہمی دیکھی جائے گی۔ اومان کے توسط سے ہونے والے اس رابطے کے نتیجے میں جولائی میں پاکستان اور قطر جیسے ثالثوں کی موجودگی میں ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار ہونے والی بات چیت دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔ بات چیت کے آئندہ دور کے لیے ملاقات کی جگہ سوئٹزرلینڈ یا قطر کا دارالحکومت دوحہ ہو سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تہران رابطے کے لیے نئی سفارتی کوششوں کے نتائج کے حوالے سے محتاط امید پرست ہے۔ تہران میں پاکستان کے سفیر عمران علی صدیقی نے اس نامہ نگار کو تصدیق کی کہ پاکستانی مشن نے ایران کی قیادت کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت پہنچا دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں برادر ملکوں کے رہنما سفارتی مشنز کو شامل کیے بغیر اپنے رابطے اور گفت و شنید جاری رکھتے ہیں۔ اس دوران ذرائع نے اشارہ دیا کہ ایران نے مکہ معاہدے کا دل سے خیرمقدم نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس اس معاہدے سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے خاص طور پر سعودی عرب کو ہدف بنایا ہے۔ ذرائع نے نشاندہی کی کہ ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات کی تاریخ اور نوعیت کے پیش نظر یہ بات قابل فہم ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے جس کا مقصد تینوں ممالک کا کسی بھی جارحیت کے خلاف دفاع کرنا ہے۔




