امریکہ ایران مذاکرات بحالی کے امکانات (اداریہ)

پاکستان اور ایران برادر اسلامی اور ہمسایہ ممالک ہیں۔ اس لیے دونوں کے درمیان مضبوط اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات پورے خطے کے امن واستحکام کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ایران کا مثبت ردعمل خوش آئند ہے۔ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ پاکستان بھی ہمیشہ خطے میں امن’ خودمختاری اور باہمی احترام کی پالیسی پر زور دیتا رہا ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی تہران گئے اور یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایرانی وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون سمیت مختلف مشترکہ مصنوعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے تاریخی’ ثقافتی اور عوامی سطح پر تعلقات قائم ہیں اور ایران وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور دیگر حکام کی طرف سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ایران پاکستان کے ساتھ اقتصادی’ تجارتی’ ثقافتی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کا خواہشمند ہے۔ دونوں ملکوں کے یہ تعلقات خطے کے استحکام اور سلامتی کے لیے بہت اہم ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی مضبوط اور ناقابل تسخیر ہیں، پاکستان ان تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کیلئے پُرعزم ہے۔ دونوں ملکوں کے موجودہ معاہدوں پر عملدرآمد کیلئے میکنزم کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پھر مذاکرات کا کوئی راستہ کھولنا چاہتا ہے۔ امریکا اور ایران امن معاہدے یا ڈیل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ دو سے تین دن کے دوران ملنے والے اشارے بناتے ہیں کہ حالات ایک بار پھر امن معاہدے کے حق میں بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دونوں میں کسی نہ کسی قسم کے معاہدے یا مفاہمت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اسلامی دنیا میں اس نوعیت کا پہلے کوئی اقدام نہیں کیا گیا کہ تین بڑے اسلامی ممالک نے مل کر ایک خالصتاً دفاعی معاہدہ کیا ہو جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر جارحیت کی صورت میں تینوں ممالک مل کر مقابلہ کریں گے۔ یہ ایک قابل تقلید معاہدہ ہے اور آنے والے وقتوں میں اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریگا۔ جس طرح اسلامی ممالک کا برسوں تک استحصال ہوا ہے اس کے پیش نظر انہیں اپنی دفاعی نظریاتی اور جغرافیائی حدود کی حفاظت کے لیے آپس میں باہمی محبت’ یکجہتی اور اتحاد کو بڑھانا چاہیے۔ مکہ سے اٹھنے والا اصل پیغام اسی لیے دفاع سے زیادہ سفارت کاری کا ہونا چاہیے، تین بڑے ممالک کا میز پر آنا اہم ہے مگر اس سے بھی اہم یہ ہے کہ اس میز کو اتنا وسیع کیا جائے کہ اس پر اختلاف رکھنے والے ممالک بھی بیٹھ سکیں۔ ایران کا ردعمل بتا رہا ہے کہ اس امکان کا دروازہ کھلا ہے جبکہ اسرائیل کی بے چینی اس تبدیلی کی تزویراتی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ ایک نئے دفاعی معاہدے کا رکن بن گیا، بلکہ یہ ہو کہ وہ اس معاہدے کو ایسی علاقائی حکمت عملی میں بدل دے جس میں طاقت کا مقصد جنگ روکنا’ دفاع کا مقصد امن قائم کرنا اور اتحاد کا مقصد تقسیم ختم کرنا ہو، اگر مکہ کا یہ عہد اسی سمت بڑھتا ہے تو اس کی بازگشت صرف تین دارالحکومتوں میں نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے سیاسی مستقبل میں سنائی دے سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران کے مثبت ردعمل کو ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھتے ہوئے پاکستان اس سلسلے میں تعمیری رابطے مزید آگے بڑھ پائے۔ دونوں ممالک اگر مشترکہ مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے دفاع’ تجارت’ سرحدی’ سلامتی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھائیں تو اس کے دوررس مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کا مضبوط تعاون نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں امن واستحکام کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں