یہ بات خوش آئند ہے کہ ترقیاتی عمل اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ثمرات دیہی علاقوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سہولتوں کی فراہمی منصوبوں سے دیہات میں بھی زندگی کا معیار بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ دیہی آبادی کو بھی ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب جاگ رہا ہے۔ پنجاب میں سیف سٹی اور دیگر اقدامات سے جرائم میں کمی آئی کچے سمیت پنجاب کا کوئی علاقہ اب نوگوایریا نہیں رہا۔ 43شہروں میں سیف سٹی کے قیام سے جرم اور مجرم کے خوف سے آزادی مل گئی۔ پنجاب کے تمام 41 اضلاع اور 2تحصیلوں میں مربوط سیف سٹی نیٹ ورک قائم کرنے والا پاکستان کا صوبہ بن گیا ہے۔ سیف سمارٹ سٹیز پراجیکٹ کو ہر تحصیل اور یونین کونسل تک پہنچانے اور مزید 1500 پینک بٹن نصب کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اڑھائی سال میں اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پنجاب کا ہر ضلع سیف سٹی بن چکا ہے۔ پنجاب ٹیکنالوجی سیفٹی ماڈل میں نیشنل لیڈر بن چکا ہے۔ پنجاب اے آئی بیس سسٹم ڈویلپمنٹ اینڈ سمارٹ سرویلینس ہو رہی ہے۔ کچے کے علاقے میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری غیر معمولی بات ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کی افادیت’ ٹیکنالوجی اور کارکردگی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا اور کامیاب منصوبوں میں شامل کیا گیا۔ پورے پنجاب میں پینک بٹن کی تعداد بھی بڑھا رہے ہیں تاکہ بچوں اور خواتین میں احساس تحفظ اجاگر ہو۔ چائلڈ سیفٹی ایپ کے ذریعے ایک لاکھ کیس حل کیے گئے اور 80ہزار بچوں کو فیملی سے ملوایا گیا۔ پنجاب اب ہر ایک کے لیے محفوظ اور بہترین بن چکا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم سب کو تعمیر وطن میں اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا وعدہ نبھانا ہو گا۔ آنے والی نسلوں کو بہتر اور محفوظ پاکستان دینا چاہتے ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے اپنے حصے کا چراغ روشن کرے تو پورے وطن میں اجالا پھیل جائیگا۔ دیہی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف عوام کو بنیادی سہولتیں میسر آئیں گی بلکہ روزگار’ کاروبار اور تعلیم کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ بہتر سڑکوں اور مواصلاتی نظام سے کسانوں کو اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچانے میں آسانی ہو گی۔ جبکہ صحت اور تعلیم کے منصوبوں سے عام آدمی کو اپنے ہی علاقے میں بہتر سہولتیں میسر آ سکیں گی۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ ان منصوبوں کی رفتار کے ساتھ معیار اور شفافیت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے ثمرات شہر اور دیہات’ امیر اور غریب’ ہر طبقے تک یکساں پہنچیں۔ پنجاب کے دیہی علاقوں کو ترقی کے عمل میں شامل کرنا نہ صرف عوامی فلاح بلکہ صوبے کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبوں کا یہ سلسلہ تسلسل’ شفافیت اور میرٹ کے ساتھ جاری رہا تو پنجاب کے دیہات بھی خوشحالی اور ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکیں گے۔




