کے پی میں یوریا کھاد دستیاب نہیں، صوبائی وزیر

پشاور(بیورو چیف)خیبرپختونخوا اسمبلی میں یوریا کھاد کی قلت اور اس پر عائد پابندی کے معاملے پر صوبائی وزیر آبنوشی فضل شکور نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کسانوں کو یوریا کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اور احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے فضل شکور نے کہا کہ دہشتگردی کے باعث صوبے کی صنعت اور کاروبار پہلے ہی تباہ ہوچکے ہیں، صرف زراعت کا شعبہ کسی حد تک چل رہا ہے، اسے بھی مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں یوریا کھاد دستیاب نہیں، جس سے کسان شدید متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے یوریا کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ یوریا کھاد سے بارودی مواد تیار کیا جاتا ہے، تاہم اس مسئلے کا حل کھاد کی فراہمی بند کرنا نہیں بلکہ اس کی مؤثر نگرانی ہے۔فضل شکور نے تجویز دی کہ یوریا کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے اور زمینداروں سے ضمانت لی جائے کہ کھاد صرف زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشتگردی کے خدشے کے باعث یوریا کی فراہمی بند کردی جائے گی تو کیا مستقبل میں بازار بھی بند کردیے جائیں گے؟انہوں نے وفاقی حکومت کی پالیسی کے خلاف احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے یوریا کھاد کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لیے پابندیاں عائد کی ہیں اور اس حوالے سے سخت ایس آر اوز جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تقریباً 70 فیصد آمدنی وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں