شہری اپنے علاقوں کیلئے مقامی طور پر شجر کی اقساط لگائیں،زرداری

اسلام آباد (بیورو چیف)صدر مملکت آصف علی زرداری نے مون سون شجرکاری مہم کے آغاز پر میں پاکستان کے عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ تمام شہری اپنے علاقوں کیلئے مقامی طور پر موزوں شجر کی اقسام لگائیں اور ان کے تحفظ اور بقا کو یقینی بنائیں، ہم سب کومل کر ایک سرسبز، صاف ستھرے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے ہر دم تیار پاکستان کیلئے کام کرنا چاہیے ۔مون سون شجرکاری مہم کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہاکہ مون سون شجرکاری مہم کے آغاز پر میں پاکستان کے عوام کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،یہ قومی اقدام ماحول کے تحفظ، انحطاط پذیر خطوں کی بحالی، سرسبز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے حامل پاکستان کی تعمیر کیلئے ہماری اجتماعی ذمہ داری کا عکاس ہے۔انہوںنے کہاکہ جنگلات پاکستان کا بیش قیمت قدرتی اثاثہ ہیں۔ یہ حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے، آبی گزرگاہوں میں واقع خطوں کی حفاظت، زمین کے بنجر ہونے کی جانب تدارک اورزرخیزی کو برقرار رکھنے، معیاری فضا میں بہتری، آفات کے دوران خطرات سے نمٹنے ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو زائل کرنے اور ان سے مطابقت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،ماحولیاتی تبدیلی سے جڑی آزمائش میں شدت کے پیشِ نظر ہمارے جنگلات کا تحفظ اور ان کے رقبے میں اضافہ ایک قومی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک اہم تزویراتی ترجیح بن چکی ہے۔انہوںنے کہاہک پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور پیرس معاہدے، اقوام متحدہ کے جنگلات کے حوالے سے 2017ء تا 2030ء تزویراتی منصوبے، اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرائی پھیلاؤ اور حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے عملدرآمد میں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے پْرعزم ہے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں، دیگر متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنگلات کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور زمین کے دیرپا انتظام کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارے قومی سطح پراقدامات، جن میں ”اَپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام”مینگروو کے ماحولی نظام کی بحالی، پائیدار جنگلاتی انتظام اور کمیونٹی پر مبنی تحفظ کے پروگرام شامل ہیں، درختوں کے رقبے میں اضافے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، روزگار کے مواقع بہتر بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے موثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کوششوں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ موجودہ جنگلات کا تحفظ اور نئے لگائے گئے درختوں کی بقا اور نشوونما یقینی بنانا بھی ضروری ہے،ان کوششوں کے اثرات ہمارے عوام کی روزمرہ زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ درخت شہروں میں بڑھتی ہوئی گرمی کے دوران سایہ فراہم کرتے ہیں، مٹی اور آبی وسائل کے تحفظ میں مدد دیتے ہیں، سانس لینے کے لئے ضروری معیاری فضا میں بہتری لاتے ہیں اور دیہی آبادیوں کو پھل، چارہ اور دیگر وسائل فراہم کرتے ہیں۔ گرمی، پانی کی قلت اور شدید موسمی حالات کے اثرات کا سامنا کرنے والے خاندانوں، کسانوں اور مقامی آبادیوں کے لیے صحت بخش جنگلات اور سرسبز مقامات ماحولیاتی تحفظ فراہم کرنے کا ایک عملی ذریعہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ موسم بہار شجرکاری مہم 2026 کے دوران عوام کی بھرپور شرکت حوصلہ افزا ہے۔ ان کاوشوں کو آگے بڑھاتے ہوئے مون سون شجرکاری مہم 2026 کے تحت ملک بھر میں دو کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ میں اپنے شہریوں، بالخصوص نوجوانوں، تعلیمی اداروں، سرکاری و نجی تنظیموں اور مقامی آبادیوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں اور، سب سے بڑھ کر، لگائے جانے والے پودوں کی حفاظت اور نشوونما کو یقینی بنائیں۔انہوںنے کہاکہ مون سون شجرکاری مہم 2026 محض شجرکاری کی ایک مہم نہیں بلکہ پائیدار ماحولیاتی ذمہ داری اور اجتماعی عمل کی دعوت ہے، میں تمام شہریوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقوں کے لیے مقامی طور پر موزوں شجر کی اقسام لگائیں اور ان کے تحفظ اور بقا کو یقینی بنائیں۔ کامیابی کا اصل پیمانہ لگائے جانے والے پودوں کی تعداد نہیں بلکہ وہ صحت افزا درخت اور جنگلات ہیں جن کی ہم برسوں تک نگرانی و نشوونما کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری، صوبائی محکمہ ہائے جنگلات، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے محکمہ ہائے جنگلات، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور رضاکاروں کی جانب سے پاکستان کے جنگلات اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ آئیے، ہم سب مل کر ایک سرسبز، صاف ستھرے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے ہر دم تیار پاکستان کے لیے کام کریں۔ اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ اور آج لگائے جانے والے پودوں کی نشوونما کے ذریعے ہم آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند ماحول اور بہتر مستقبل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں