تاجروں کو تباہی کی طرف دھکیلا جارہا ہے،شاہد رزاق سکا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے سرپرست اعلیٰ و صدر انجمن تاجران فیصل آباد خواجہ شاہد رزاق سکا، جنرل سیکرٹری شیخ سعید احمد،ڈپٹی سیکرٹری میاں ریاض شاہد، چیئرمین مرزااشرف مغل، صدر ینگ ٹریڈرز ملک سہیل نیاز طور اور دیگر سینئر رہنمائوں نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی طفل تسلیاں عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتیں ایوان صدر، وزیراعظم، وزرا اعلیٰ و گورنرز، صوبائی ووفاقی وزراکے گھروں اوردفاتر ز میں بجلی کا بے تحاشہ مفت استعمال قابل مذمت ہے۔ پالیسی میکرموجودہ حکمرانوں کو بے بس اوراپنی من مانیاں کو تقویت دیکرحکومت کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دے رہے ہیں عام صارفین کو بھیجے جانے والے بجلی کے بلز انکی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں بجلی کا مہنگا ٹیرف اور دیگر ٹیکسزوسرچارجز، میٹررینٹ ملا کر ایک یونٹ 70 روپے سے زائدکا ہوگیا ہے جسے حالات کے ستائے چھوٹے تاجر، غریب عوام اور تنگ دست سفید پوش گھرانے ان بلوں کی ادائیگی کابوجھ برداشت نہیں کر سکیں گے تاجر دکانوں کے کرائے اور سیلز مینوں کوتنخواہ دینے سے قاصر ہیں خواجہ شاہد رزاق سکا نے کہا کہ مراعات یافتہ طبقہ کو نوازا اور ملک کے تاجروں، ایکسپورٹروں اور صنعتکار وں کوتباہی کی طرف دھکیلا جا رہاہے ملک کے تاجر اورعوام جس مشکلات شکار ہیں موجودہ حالات میں یہ ملک کیسے چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں پاکستان کا قرضہ5 گنابڑھ گیا ہے اسکے تمام تر منفی اثرات ملک کی صنعت و تجارت پر پڑرہے ہیں لیکن حکمرانوں اور سیاست دانوں کو اسکی قظعی پرواہ نہیں خواجہ شاہد رزاق سکا نے کہا کہ قرض کیلئے IMF نے قوم کوپریشان کر رکھا ہے اس نے ایسی ایسی شرائط تسلیم کرائی ہیں جو ہماری خود مختاری پر سوالیہ نشان ہیں جنرل سیکرٹری شیخ سعید احمد اور،ڈپٹی سیکرٹری میاں ریاض شاہد ،چیئرمین مرزااشرف مغل، صدر ینگ ٹریڈرز ملک سہیل نیاز طورنے کہا کہ پوری قوم اشرافیہ، ججز،اسٹیبلشمنٹ اوربیورو کریسی کودی جانے والی مراعات پر سراپا احتجاج ہے لیکن کسی کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی انہوں نے کہاکہ 40ہزار روپے ماہانہ لینے والا اور دیہاڑی دار مزدورمکان کا کرایہ،بجلی، گیس پٹرول کا بل خود دیتا ہے تو ایوان صدر، وزیراعظم، وزرا اعلی و گورنرز، صوبائی ووفاقی وزرا، ججز اورفوجی افسر ججز اور گریڈ17 سے اوپر تک کے سرکاری ملازمین کو بجلی، گیس پٹرول مفت کیوں دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں