FDAکا غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹی سکیموں کیخلاف آپریشن

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری کی ہدایات پر غیر قانونی ہائوسنگ سکیموں و غیر منظور شدہ ڈویلپمنٹ کیخلاف بلاامتیاز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اس ضمن میں ایف ڈی اے کی انفورسمنٹ ٹیم نے ستیانہ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر قائم کی جانے والی ہائوسنگ سکیم کے تعمیراتی ڈھانچوں اور دیگر غیر قانونی تعمیرات کو بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر ٹائون پلاننگ ٹو اسما محسن کی زیرِ نگرانی اسٹیٹ آفیسر فاران ہاشمی کی سربراہی میں انفورسمنٹ انسپکٹر اسلم انصاری اور دیگر متعلقہ سٹاف پر مشتمل ایف ڈی اے کی ٹیم نے ستیانہ روڈ کے اطراف قائم اور زیرِ تعمیر ہائوسنگ سکیموں کی قانونی حیثیت اور منظور شدہ ریکارڈ کا معائنہ کیا تو اس دوران چک نمبر 225 ر ب کی اراضی پر حنا ریذیڈینشل کے نام سے غیر قانونی ہائوسنگ سکیم کے قیام اور ڈویلپمنٹ کی نشاندہی ہوئی، جس پر ایف ڈی اے ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موقع پر موجود چاردیواری، تعمیراتی ڈھانچوں اور دیگر غیر قانونی تعمیرات کو بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کر دیا۔ ایف ڈی اے انتظامیہ نے متعلقہ ڈویلپر کو واضح ہدایت کی کہ ہائوسنگ سکیم کے قیام اور ڈویلپمنٹ کے لیے تمام قانونی، تکنیکی اور محکمانہ تقاضے مکمل کرنے کے بعد ہی کسی قسم کی تعمیراتی سرگرمی شروع کی جائے۔ ڈویلپر کو متنبہ کیا گیا کہ منظوری کے بغیر غیر قانونی ڈویلپمنٹ یا آئندہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں ایف ڈی اے قوانین کے تحت محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری مقدمہ بھی درج کرایا جا سکتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے اس موقع پر واضح کیا کہ شہریوں کے مفادات کا تحفظ اور غیر قانونی ہائوسنگ سکیموں کی حوصلہ شکنی ایف ڈی اے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ غیر قانونی ہائوسنگ سکیموں اور غیر منظور شدہ تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کو مزید موثر بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ایف ڈی اے انتظامیہ نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ہائوسنگ سکیم میں پلاٹ خریدنے یا سرمایہ کاری کرنے سے قبل اس کی قانونی حیثیت، منظوری اور متعلقہ این او سی کی مکمل تصدیق ضرور کریں تاکہ انہیں مستقبل میں مالی نقصان، قانونی پیچیدگیوں یا دیگر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اس سلسلے میں ایف ڈی اے کے متعلقہ شعبے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں