امریکہ مایوسی کا شکار،ایران پر ٹرمپ کی نئی پابندیاں بھی ناکام

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ نے نئی امریکی پابندیوں کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن مایوسی کا شکار ہے، متوقع نئی پابندیاں تہران کو شکست دینے میں ناکام رہیں گی’ٹیلی گرام پر جاری ویڈیو پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی اقدامات کو بار بار دہرائے جانے والے منصوبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت کہ امریکی رہنما فوجی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر ایک بار پھر انہی پرانے منصوبوں کی بات کر رہے ہیں، ظاہر کرتی ہے کہ وہ مایوس ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ احترام کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے تاکہ انصاف اور عزت پر مبنی حل تلاش کیا جاسکے۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کبھی خوفزدہ نہیں ہوا، ان کی تمام کارروائیاں چاہے وہ ناکہ بندیاں ہوں یا دیگر فوجی اقدامات، ناکام ہوچکی ہیں اور ان کا یہ نیا اقدام بھی ناکام ہوگا۔دریں ثنا۔لندن /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی اخبار فنانشل ٹائمزکے مطابق ایران کے ساتھ تقریباً6ماہ کی جنگ نے مشرق وسطی میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اخبار کے مطابق تقریباً چار دہائیوں سے مشرق وسطی میں امریکی موجودگی خلیج کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے بڑے فوجی اڈوں کے ایک وسیع نیٹ ورک پر قائم رہی ہے، لیکن ایران نے امریکی تنصیبات پر مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے، جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ایران کے ساحلوں کے اتنے قریب واقع یہ بڑے فوجی اڈیکس قدرکمزور ہیں۔ایران نے امریکا کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے فوجیوں اور طیاروں کو ایرانی حملوں کی زد سے باہر اسرائیل، اردن اور دیگر دور دراز مقامات پر منتقل کرے۔اخبار کے مطابق اب واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ان تنصیبات کی دوبارہ تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں یا بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کے پورے ڈھانچے پر ازسرنو غور کیا جائے۔واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نے اپریل میں اندازہ لگایا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت پر تقریباً 5 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ تاہم پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جنگ کی اپنی لاگت کے اندازوں میں ان اڈوں کی تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں کیے۔گزشتہ 6 ماہ کی جنگ کے دوران امریکا نے اپنی کچھ افواج اسرائیل اور اردن منتقل کی ہیں، اس کے علاوہ امریکی طیاروں اور ڈرونز نے یورپ میں موجود فوجی اڈوں سے بھی پروازیں کی ہیں۔یہ تمام مقامات ایران کے ان مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کی پہنچ سے باہر ہیں جو اس نے پورے خطے میں استعمال کیے، لیکن ایران بھی امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کے مطابق اپنی فوجی صلاحیتوں کو تبدیل کریگا۔اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے سابق عہدیدار کے مطابق ایران ایسے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر زیادہ سرمایہ کاری کریگا جو اردن اور اسرائیل کو نشانہ بناسکیں، وہ اپنی فوجی تیاری کا رخ تبدیل کریں گے، وہ امریکی اور اتحادی اہداف کا تعاقب جاری رکھیں گے۔اخبار کے مطابق خلیجی اتحادیوں کے ساتھ امریکا کا تیل کے بدلے سکیورٹی کا معاہدہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بدلتا رہا ہے۔ بعض خلیجی ممالک اب اپنی سکیورٹی کے لیے امریکا کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ نے تمام اتحادیوں کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ان کے دفاع کے لیے امریکی عزم کس حد تک قابل اعتماد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں