سدھار اور گردو نواح میں طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) سدھار اور گردونواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی، شدید گرمی میں بجلی کی بار بار بندش سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیاں بھی ماند پڑنے لگی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سدھار، گردانہ، ملاں پور، ٹھیکریوالہ، 35ج ب، 36ج ب اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دن بھر شدید گرمی میں محنت مزدوری کرنے کے بعد جب وہ رات کو آرام اور نیند کے لیے گھروں کو واپس آتے ہیں تو آدھی رات کو بجلی کی بندش سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بجلی کی طویل بندش کے باعث نہ صرف نیند پوری نہیں ہوتی بلکہ بچے، بزرگ اور بیمار افراد بھی شدید اذیت کا شکار ہو رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی بندش ناگزیر ہے تو کم از کم اس کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے تاکہ عوام اپنی روزمرہ زندگی اور کاروباری معاملات کو اس کے مطابق ترتیب دے سکیں۔ آدھی رات کو اچانک بجلی بند ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ بجلی کی بار بار بندش سے گھریلو برقی آلات، پانی کی موٹریں، پنکھے اور دیگر ضروری سہولیات بھی متاثر ہوتی ہیں۔شہریوںچوہدری گلزار حسین، رانا خلیل احمد، میاں ندیم شہزاد، محمد اسلم بٹ، راغب علی اور دیگر شہریوں نے کہا کہ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کسی عذاب سے کم نہیں۔ دن بھر محنت مزدوری کرنے والا شخص اگر رات کو سکون سے سو نہ سکے تو اگلے روز وہ کس طرح اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش سے دکانداروں، چھوٹے کاروباری افراد، طلبہ، گھریلو خواتین اور بالخصوص دیہاڑی دار مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کے دوران پینے کے پانی اور گھریلو ضروریات کے لیے موٹریں بھی نہیں چل پاتیں، جس سے شہریوں کی مشکلات دوچند ہو جاتی ہیں۔شہریوں نے حکومت، فیسکو حکام اور متعلقہ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ شدید گرمی کے پیش نظر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے، اگر کسی تکنیکی یا انتظامی مجبوری کے باعث بجلی بند کرنا ضروری ہو تو اس کا باقاعدہ شیڈول عوام کو فراہم کیا جائے اور رات کے اوقات میں غیر ضروری بجلی کی بندش سے گریز کیا جائے تاکہ شہری کم از کم سکون کی نیند پوری کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں