فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) انسانی حقوق کے علمبرداروں نے فیصل آباد سے تعلق رکھنے وا لی 13سالہ مسیحی بچی عنبر ندیم کے مبینہ اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت، پولیس اور عدلیہ سے بچی کے فوری تحفظ، بازیابی اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ فیصل آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اکمل بھٹی، وائس فار جسٹس کے چیئرمین جوزف جانسن، ایڈووکیٹ ہارون مائیکل، صدف عدنان اور عنبر کی والدہ نادیہ ندیم نے کہا کہ کم سن بچی کی تحویل مبینہ اغوا کار یا شوہر کو دیے جانے سے اسے مزید دبائو، استحصال، دھمکی اور نقصان کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، لہذا ریاستی ادارے بچی کو مبینہ ملزم کی تحویل سے بازیاب کراکر والدین یا مناسب حفاظتی تحویل میں دیں اور اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ مقررین کے مطابق 12 جون 2026 کو محسن لیاقت پر عنبر ندیم کے مبینہ اغوا کا الزام عائد کیا گیا، جس پر تھانہ رضا آباد میں ایف آئی آر نمبر 838/26 بجرم دفعہ 365-B تعزیرات پاکستان درج کی گئی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے عنبر کو بازیاب کرایا اور اسے حفاظتی تحویل میں رکھا۔ ان کے مطابق 27 جون کو عنبر نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے مبینہ طور پر بیان دیا کہ ملزم کے خاندان کی جانب سے اسے خود کو بالغ ظاہر کرنے کے لیے دبائو اور تربیت دی گئی، جبکہ تبدیلی مذہب اور نکاح سے متعلق پیش کی گئی دستاویزات میں اس کی تاریخ پیدائش جون 2008 درج تھی، حالانکہ والدین کے مطابق ان کی شادی 2012 میں ہوئی تھی۔ عمر سے متعلق تضادات کے باعث عدالت نے طبی معائنے کے ذریعے عمر کے تعین کا حکم دیتے ہوئے عنبر کو دارالامان منتقل کردیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عمر، مبینہ دبائو، دستاویزات کی صحت اور دیگر اہم قانونی معاملات سے متعلق سوالات بدستور موجود تھے، تاہم 25 جولائی 2026 کو سیشن کورٹ کی جانب سے عنبر کی تحویل مبینہ شوہر کو دینے اور اسے ضمانت فراہم کرنے کا فیصلہ باعث تشویش ہے۔ عنبر کی والدہ نادیہ ندیم نے بتایا کہ عنبر اور اس کی بہن جینیفر کی عمروں میں مبینہ ردوبدل کے لیے جعلی بی فارم دستاویزات کے استعمال کے معاملے پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی دی گئی ہے، جبکہ خاندان کی جانب سے تصدیق شدہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا گیا ہے جس میں درج معلومات متنازع دستاویزات سے مختلف ہیں۔ایڈووکیٹ ہارون مائیکل نے پنجاب حکومت، پولیس اور عدلیہ سے اپیل کی کہ مزید تاخیر کے بغیر عنبر ندیم کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اسے مزید نقصان سے بچایا جائے، مبینہ جعلی دستاویزات اور دیگر الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور مقدمے کا فیصلہ قانون اور بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کم سن بچوں کے تحفظ، اقلیتی برادریوں کے بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے ہر آئینی و قانونی فورم پر آواز اٹھائی جاتی رہے گی۔




