درآمدی کپڑے کی غلط تفصیل کے ذریعے ٹیکس چوری کرنیوالوں کے گرد گھیراتنگ

اسلام آباد/کراچی(بیورو چیف) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان کسٹمز نے برآمدی سہولت اسکیم کے غلط استعمال اور درآمدی کپڑے کی مس ڈیکلریشن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں۔ پاکستان کسٹمز نے درآمدی کپڑے کی کنسائنمنٹس کی جانچ پڑتال، فزیکل چیکنگ اور ضرورت پڑنے پر لیبارٹری ٹیسٹنگ کا عمل سخت کردیا ہے۔پاکستان کسٹمز کے ترجمان کے مطابق برآمدی سہولت اسکیم کے تحت بعض درآمدی کپڑے کی غلط تفصیل ظاہر کرکے ٹیکسوں اور ڈیوٹی سے بچنے کی کوششوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ گریج فیبرک کو برآمدی سہولت اسکیم سے خارج کیے جانے کے باوجود اسے غلط تفصیل کے ساتھ درآمد کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس پر متعلقہ کنسائنمنٹس کی کڑی جانچ پڑتال جاری ہے۔ترجمان نے بتایا کہ درآمدی کپڑے کی اصل نوعیت کا تعین کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر نمونے حاصل کرکے ان کے لیبارٹری ٹیسٹ بھی کرائے جا رہے ہیں۔ کسٹمز حکام کے مطابق بعض معاملات میں کپڑے پر باقاعدہ رنگائی کے بجائے صرف فوڈ کلرنگ استعمال کرکے اسے تیار شدہ کپڑا ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ ٹیکسوں اور ڈیوٹی سے بچا جاسکے۔پاکستان کسٹمز کے مطابق مس ڈیکلریشن کے باعث نہ صرف قومی خزانے کو محصولات کے نقصان کا خدشہ ہے بلکہ مقامی ٹیکسٹائل صنعت بھی غیر منصفانہ مسابقت سے متاثر ہورہی ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے برآمدی سہولت اسکیم کے غلط استعمال کے خلاف کسٹمز کی کارروائی کو سراہا ہے۔کسٹمز حکام نے کہا کہ برآمدی سہولت اسکیم کا مقصد برآمدی صنعت کو سہولت فراہم کرنا ہے، تاہم اس کے غلط استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسکیم کے مقررہ مقاصد کے مطابق استعمال کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے اور غلط ڈیکلریشن یا سہولت کاری اسکیم کے ناجائز استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں