سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک اہم اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت پر اپنے فیصلے میں بھارت کا معاہدہ معطل کرنے کا اقدام ناقابل جواز قرار دیتے ہوئے بھارت کو ہائیڈرو پراجیکٹس پر کام کرنے اور پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم دیا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ ثالثی عدالت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التواء میں رکھنے کے فیصلے کے تناظر میں سندھ طاس معاہدے کی حیثیت اور پاکستان کی جانب سے 4مارچ کو دائر کی گئی درخواست پر عبوری اقدامات سے متعلق حکم پر فیصلہ سنایا۔ پاکستان نے ثالثی عدالت سے درخواست کی کہ وہ دریائے سندھ’ دریائے جہلم اور دریائے چناب اور ان کے معاون دریائوں پر بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے بعض اجزا کے ڈیزائن سے متعلق معاملات کا جائزہ لے۔ یہ کارروائی سندھ طاس معاہدے کی عمومی طور پر تشریح اور اطلاق سے متعلق ہے جبکہ اس میں بھارت کے دو مخصوص منصوبے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ شامل ہیں۔ عدالت نے بھارت کی جانب سے اپریل 2025ء میں سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے فیصلے کے تناظر میں معاہدے کی موجودہ حیثیت کا جائزہ بھی لیا۔ سندھ طاس معاہدہ یا تو معطل ہے یا ختم کر دیا گیا ہے ان میں سے کوئی بھی بنیاد سندھ طاس معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا جواز فراہم نہیں کرتی، چنانچہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے جن میں مغربی دریائوں پر اپنے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ عدالت نے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹنگ کا ایک اقدام بھی عائد کیا جو غیر جانبدار ماہر کے حتمی فیصلے کے فوراً بعد تک نافذ العمل رہے گا۔ بھارت نے بار ہا مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اس کا فیصلہ اس کی خودمختاری کی بنیاد پر جائز ہے تاہم ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو کسی ریاست کو اپنی خودمختاری کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر کسی معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ تمام عدالتیں بشمول بھارت اپنے معاہدوں کی پابند ہیں اور انہیں پورا کرنا ضروری ہے۔ ثالثی عدالت ان کارروائیوں کیلئے سیکرٹریٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔ عدالت نے متفقہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ معاہدے کو معطل کرنے سے متعلق بھارت کا فیصلہ معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے دیگر قابل اطلاق قواعد کے تحت جائز نہیں اور اسی بنا پر معاہدہ نہ تو ختم کیا گیا ہے اور نہ ہی اس پر عملدرآمد معطل ہوا ہے۔ بلکہ یہ نافذ العمل ہے۔ بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اسے ان پر عمل کرنا چاہیے، جن میں مغربی دریائوں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن اور ان سے متعلق تنازعات کے تصیفے کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ عدالت نے متفقہ طور پر ایسے اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے تحت بھارت اگلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ کے ڈیم کی دیوار اور بجلی کے حصول کے ڈھانچے کو مخصوص سطحوں سے اوپر کنکریٹ کرنے سے روکا گیا ہے۔ ثالثی عدالت کا فیصلہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت نے بھارت کے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا کہ وہ یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ملک کی زراعت’ غذائی تحفظ’ توانائی اور معیشت کا گہرا تعلق دریائے سندھ کے آبی نظام سے ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ عالمی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں کا احترام کرتے ہوئے پاکستان کے آبی حقوق کو تسلیم کرے اور پانی جیسے بنیادی مسئلے کو سیاسی کشیدگی کا ذریعے بنانے سے گریز کرے۔ سندھ طاس معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں امن’ تعاون اور استحکام کی ایک اہم بنیاد بھی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ واضح پیغام ہے کہ کوئی بھی ملک بین الاقوامی معاہدے کو اپنی مرضی سے معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے جبکہ پاکستان بھی مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں جاری رکھے۔




