سنگین امراض کی بروقت تشخیص کیلئے اقدامات خوش آئند (اداریہ)

کینسر اور دیگر سنگین امراض کی بروقت تشخیص اور جدید علاج کی سہولیات متعارف کرانے کا اعلان خوش آئند اور عوامی صحت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ جدید دور میں طبی سائنس نے بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں بھی جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے عوام کو معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز کے قریب فراہم کرے۔ کینسر سمیت دیگر مہلک امراض میں بروقت تشخیص انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ بیماری کا ابتدائی مرحلے میں پتا چل جائے تو علاج کے امکانات میں نمایاں پیش رفت ہو سکتی ہے، کینسر ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جو مریض کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کیلئے بھی اذیت کا باعث بنتی ہے اس بیماری سے چھٹکارہ پانا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے، پاکستان میں بہت سے مریضوں کو جدید تشخیصی سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث بیماری کا جب پتا چلتا ہے تو کینسر کی بیماری مریض میں سرایت کر چکی ہوتی ہے اگر اس بیماری کا پتہ بروقت لگ جائے تو اس کا علاج بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ پنجاب حکومت نے عوام کی بہتری کی خاطر بہت سے اقدامات بروئے کار لائے ہیں جن میں کینسر سے نبردآزما ہونے کیلئے صوبہ میں کینسر کی تشخیص کا بروقت طریقہ علاج متعارف کرایا جا رہا ہے۔ چین نے صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی’ تحقیق’ تشخیص اور علاج کو ایک مربوط نظام کے تحت ترقی دی ہے، پنجاب میں چینی طرز کے طبی نظام سے استفادہ کرنے کا مقصد اگر جدید تشخیصی آلات’ ماہر ڈاکٹرز’ جدید لیبارٹریوں اور علاج کی مؤثر سہولیات کو ایک مربوط نظام میں شامل کرنا ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہو گا، تاہم کسی بھی نظام کی کامیابی صرف اعلان تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے لیے واضح منصوبہ بندی’ مطلوبہ بجٹ’ تربیت یافتہ طبی عملہ اور مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ جدید طبی سہولیات صرف لاہور یا چند بڑے شہروں تک محدود نہ رکھے بلکہ صوبے کے تمام اضلاع اور حتیٰ کہ تحصیل کی سطح تک ان کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ دور دراز علاقوں کے شہری بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور انہیں بھی بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔ جدید موبائل میڈیسن کے نظام کو فروغ دے کر اس مقصد کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ کینسر کے ساتھ ساتھ دل گردوں’ جگر ذیابیطس اور دیگر پیچیدہ امراض کی بروقت تشخیص بھی ضروری ہے۔ اگر بیماری کی ابتدائی علامات سامنے آتے ہی جدید ٹیسٹوں کے ذریعے اس کی تشخیص کر لی جائے تو نہ صرف مریض کی زندگی بچانے کے امکانات بڑھتے ہیں بلکہ علاج کے اخراجات اور ہسپتالوں پر دبائو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے، شہریوں کو صحت کے باقاعدہ معائنے’ بیماریوں کی ابتدائی علامات اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ پنجاب میں جدید طبی نظام کے قیام کے ساتھ سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی حالت زار بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی’ صفائی’ بستروں کی تعداد ایمرجنسی سروسز اور مریضوں کے لیے مناسب سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔ جدید مشینری خریدنے کے ساتھ اس کی دیکھ بھال اور بروقت مرمت کا مؤثر نظام بھی ہونا چاہیے کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں سرکاری مشینری پڑے پڑے ہی خراب ہو جاتی ہیں، کوئی پرسان حال نہیں ہوتا جبکہ ان مشینوں کو دوبارہ مرمت کر کے استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے اور مریضوں کو بہتر سے بہتر علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکتی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہ اقدام اسی صورت میں صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے جب اسے طویل المدتی منصوبے کے طور پر جاری رکھا جائے حکومت کو بھی چاہیے کہ صرف سیاسی اعلانات سے آگے بڑھ کر اس منصوبے کے لیے واضح اہداف مقرر کرے اور ان کی تکمیل کا باقاعدگی سے جائزہ بھی لیا جائے۔ شفافیت’ میرٹ اور ماہرین کی نگرانی اس منصوبے کی کامیابی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب میں بیماری کے ساتھ ساتھ بیماری سے بچائو اور بروقت تشخیص کو بھی صحت کی پالیسی کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی’ چینی طبی تجربات’ پاکستانی ماہرین کی صلاحیت اور حکومتی وسائل کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے تو پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ممکن ہے۔ کینسر اور دیگر مہلک امراض کے خلاف مؤثر جدوجہد صرف جدید ہسپتال بنانے سے نہیں بلکہ بروقت تشخیص’ معیاری’ علاج’ طبی تحقیق’ عوامی آگاہی اور غریب مریضوں کے لیے آسان رسائی سے ہی کامیاب ہو سکتی ہے، امید ہے کی جانی چاہیے کہ حکومت پنجاب اس اعلان کو عملی منصوبے میں تبدیل کرے گی اور جدید طبی سہولیات صوبے کے ہر شہری تک پہنچا کر صحت مند معاشرے کے قیام کی جانب ایک مضبوط قدم اٹھائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں