سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا آفیشل انفارمیشن چینل قائم کیا جائے

فیصل آباد (ایجوکیشن رپورٹر) سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مصدقہ اطلاعات اور محکمانہ ہدایات بروقت ملازمین تک پہنچانے کے لیے باقاعدہ میڈیا کیلئے آفیشل چینل قائم کیا جائے، فیک نوٹیفکیشن پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی بجائے صرف تردیدی نوٹیفکیشن جاری کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار ایجوکیشن رائٹس کمیشن پاکستان کے رہنما رانا شاہد مقرب نے کیا۔تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ملازمین کو مصدقہ اطلاعات فراہم کرنے کے لیے ایسا کوئی موثر اور باقاعدہ میڈیا چینل موجود نہیں جہاں سے انہیں بروقت محکمانہ ہدایات اور نوٹیفکیشنز کی تصدیق شدہ معلومات مل سکیں۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر سکول ایجوکیشن کے نام سے سینکڑوں اکائونٹس اور پیجز سرگرم ہیں، جہاں آئے روز جعلی اور غیر مصدقہ نوٹیفکیشنز شیئر کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں، لیو انکیشمنٹ، تعلیمی بورڈز کے نتائج، نئے سروس رولز اور دیگر محکمانہ معاملات کے حوالے سے فیک نوٹیفکیشنز وائرل ہونے سے اساتذہ اور دیگر ملازمین میں بے چینی اور مایوسی پھیلتی ہے، جبکہ بعدازاں محکمہ ان نوٹیفکیشنز کی تردید جاری کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فیک نوٹیفکیشن جاری کرنے اور پھیلانے والے عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔رانا شاہد مقرب نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں بہت سی مثبت پیش رفت ہو رہی ہوتی ہے، تاہم غیر مصدقہ اطلاعات اور جعلی نوٹیفکیشنز کے باعث ملازمین تک درست معلومات بروقت نہیں پہنچ پاتیں۔جس سے ملازمین میں مایوسی کی فضا قائم ہو جاتی ہے اگر سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اپنا باقاعدہ آفیشل انفارمیشن چینل قائم کر دے تو ملازمین کسی بھی نوٹیفکیشن کی تصدیق باآسانی کر سکیں گے اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کا بھی موثر تدارک ممکن ہوگا۔ایجوکیشن رائٹس کمیشن پاکستان کے عہدیداران و ممبران رانا شاہد مقرب، محمد اسلم بٹ، حافظ نجف، مرزا زوالفقار، علی اویس، میاں طاہر، چوہدری نواز گجر، حافظ رضوان، طارق سندھو و دیگر نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی مصدقہ اطلاعات اور نوٹیفکیشنز کی بروقت فراہمی کے لیے باقاعدہ آفیشل چینل قائم کیا جائے اور جعلی نوٹیفکیشنز پھیلانے والوں کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں