بدامنی کا خاتمہ ناگزیر ہے’ JUI

کوئٹہ (نامہ نگار)جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع، جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ اور صوبائی ترجمان حاجی دلاور خان کاکڑ نے بلوچستان کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں بدامنی، دہشت گردی اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے، کوئی بھی طبقہ خود کو محفوظ تصور نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، محض بیانات اور الزامات کے بجائے مسائل کی بنیادی وجوہات کو سمجھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، تاجر برادری، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں کو ایک میز پر بیٹھ کر قابلِ عمل حل تلاش کرنا چاہیے۔رہنماں نے کہا کہ مزید کسی سانحے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا، فوری طور پر بامقصد قومی و صوبائی مکالمے کا آغاز کیا جائے۔ بلوچستان کے عوام کو برابر کے شہری ہونے کا احساس دلانے کے ساتھ ان کے جان و مال، روزگار، عزت اور مستقبل کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی تحفظات جمہوری انداز میں اٹھائے جاتے رہیں گے، تاہم سیاست اسی وقت بامعنی ہے جب صوبے میں امن ہو، شہری محفوظ ہوں، نوجوانوں کو روزگار، جبکہ عوام کو تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ طاقت کے استعمال یا سخت بیانات سے بلوچستان کے مسائل مستقل حل نہیں ہوں گے، اس کے لیے مذاکرات، اعتماد سازی، انصاف، مساوی حقوق اور عوامی شمولیت پر مبنی جامع حکمتِ عملی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں