فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) محکمہ واسا نے راتوں رات پانی وسیوریج کے بلوں میں ڈیڑھ سو گنا اضافہ کر دیا، واسا نے ساڑھے تین مرلہ گھر کو سیوریج وپانی کا بل 800 سے بڑھا کر 2004 روپے کر دیا، جسکی وجہ سے صارفین کی چیخیں نکل گئیں۔ تفصیل کے مطابق واسا صارفین کا کہنا ہے کہ محکمہ واسا کی طرف سے جون کا بل 753 روپے آیا تھا جبکہ پھر جولائی’ اگست میں سیوریج وپانی کا بل 800 روپے کر دیا تھا تاہم ستمبر میں واسا نے اچانک بل 2004 روپے کر دیا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بجلی’ گیس کے بلوں میں اضافہ اور روزبروز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے تنگ آ چکے ہیں’ محکمہ واسا نے بھی راتوں رات بلوں میں ڈیڑھ سو گنا تک اضافہ کر دیا جبکہ محکمہ واسا کی کارکردگی صفر ہے، معمولی بارش کے باعث گلی ‘محلوں میں پانی کھڑا رہتا ہے۔ اکثر علاقوں کی سیوریج لائنیں بند ہونے سے تعفن پھیل رہا ہے جبکہ محکمہ واسا نے اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے اور ریونیو بڑھانے کیلئے سیوریج اور پانی کے بلوں میں اضافہ کر دیا اور صارفین کو کسی قسم کی اطلاع نہیں کی گئی جو کہ صارفین کیساتھ سراسر ظلم وزیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین مرلہ تک بلوں میں اضافہ جبکہ اس سے زیادہ رقبہ کے گھروں پر اس سے بھی زیادہ بل بڑھائے گئے ہیں۔ اگر کسی گلی’ محلے کی سیوریج لائن بند ہو جائے تو محکمہ واسا کا کرپٹ اور نااہل عملہ نذرانہ وصول کئے بغیر سیوریج لائنوں کی صفائی نہیں کرتا۔ شہر کے اکثر نشیبی علاقوں میں سیوریج کی بوسیدہ لائنیں خراب ہو چکی ہیں اور گٹروں کے گندے پانی سے وہاں کے مکینوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف’ کمشنر فیصل آباد عمران حامد شیخ’ ڈپٹی کمشنر نعمان صدیق’ ایم ڈی واسا ثاقب رضا اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ واسا کے بلوں میں اضافہ کو فی الفور واپس لیا جائے۔




