واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں روزگار کے توقعات سے بہتر اعدادوشمار کے بعد رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت دبائو کا شکار ہو گئی۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,405.47 ڈالر فی اونس پر آگئی، جبکہ دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,452.20 ڈالر فی اونس پر آگئے۔گزشتہ جمعہ کو بھی سونے کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔امریکی اعدادوشمار کے مطابق اگست میں ملازمتوں میں اضافہ توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے ہوا، جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد پر برقرار رہی۔ مضبوط لیبر مارکیٹ نے سرمایہ کاروں کے درمیان یہ توقعات بڑھا دی ہیں کہ امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو، رواں ماہ شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی مہنگائی کے اہم اعدادوشمار پر مرکوز ہیں۔ پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) جمعرات جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) جمعہ کو جاری کیا جائے گا۔مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق امریکی روزگار کی رپورٹ نے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دی ہے، تاہم ستمبر میں شرح سود بڑھانے کے لیے یہ اعدادوشمار اکیلے کافی نہیں۔ ان کے مطابق اس حوالے سے امریکی CPI رپورٹ زیادہ اہم ہوگی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کے اعدادوشمار توقعات سے زیادہ مضبوط آتے ہیں تو امریکی شرح سود میں اضافے کی توقع مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے بانڈ ییلڈز میں اضافہ اور سونے کی قیمت پر مزید دبا آنے کا امکان ہے۔سونے کو عموما مہنگائی کے خلاف ایک محفوظ اثاثہ سمجھا جاتا ہے، لیکن شرح سود بڑھنے کی صورت میں ایسا اثاثہ جس سے کوئی باقاعدہ منافع حاصل نہیں ہوتا، سرمایہ کاروں کے لیے نسبتا کم پرکشش ہوجاتا ہے۔CME کے FedWatch ٹول کے مطابق اس وقت سرمایہ کار 15 اور 16 ستمبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھنے کا 58.4 فیصد امکان ظاہر کر رہے ہیں۔دوسری جانب مشرق وسطی میں جاری کشیدگی بھی عالمی مالیاتی منڈیوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ ایران نے امریکی پابندیوں سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایک اعلی ایرانی عہدیدار نے مزید حملے کی صورت میں تکلیف دہ جواب دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 66.03 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.8 فیصد کمی کے بعد 1,805.53 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 1,396.08 ڈالر فی اونس ہوگیا۔




