پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) جو طالبعلم اپنے تدریسی کاموں کے لیے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس استعمال نہیں کرتے، وہ دیگر طالبعلموں سے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔ انجمن اقتصادی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) کی تعلیم کے حوالے سے جاری رپورٹ میں اے آئی ٹیکنالوجی سے بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت پر مرتب ہونیوالے اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔اس رپورٹ میں اے آئی سے دور رہنے والے طالبعلموں کے سائنس ٹیسٹ میں اسکور کا موازنہ اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کرنے والے 484 طالبعلموں کے اسکور سے کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ اے آئی سے دور رہنے والے طالبعلموں کا اوسط اسکور 509 جبکہ چیٹ بوٹس استعمال کرنے والوں کا اسکور 481 تھا۔28 پوائنٹ کا یہ ڈیڑھ سال کے دوران مسلسل برقرار رہا۔اسی طرح کے نتائج اے آئی کے دیگر شعبوں جیسے کسی نئے موضوع پر تحقیق اور مطالعے کے بعد سمری وغیرہ میں بھی نظر آئے۔محققین نے بتایا کہ کسی چیز کو سیکھنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ مواد کو رٹنا شروع کر دیں بلکہ دماغی جدوجہد سے نئے مواد کو سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو بیساکھی کی بجائے عارضی سہارے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے تاکہ دماغی افعال کو اس سے فائدہ ہو اور تدریسی میدان میں آگے بڑھنے میں مدد ملے، اگر اس پر انحصار کیا جائے گا تو مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔اس سے قبل ان محققین نے 2022 میں بھی اس طرح کی تحقیق کی تھی جب اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے مقبول ہونا شروع ہوئی تھی۔




