آسان قرضہ سکیم’ حکومت کا عام شہریوں کیلئے احسن اقدام (اداریہ)

چھوٹا کاروبار کرنے والے افراد کیلئے آسان قرض اور سستے گھروں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ ملک کا عام شہری اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکے اور ملک کا کارآمد شہری ثابت ہو۔ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کی بہتری کیلئے بہترین پالیسیاں مرتب کی ہیں اور یہ پالیسیاں عام شہریوں کے لیے کارگر بھی ثابت ہو رہی ہیں۔ کم آمدن والے افراد کیلئے آسان قرضہ کی فراہمی سے ملک میں بیروزگاری بھی ختم ہو گی اور ملک خوشحالی کی جانب بھی گامزن ہو گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستی رہائش’ کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں اور جھوٹے ودرمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی سہولتوں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کسانوں’ چھوٹے اور درمیانے کاروبار اور ہائوسنگ کے شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرنا ہو گا تاکہ اس قرضے کی رقم مستحق افراد تک آسانی سے پہنچ سکے اور اس مقصد کے حصول میں عام شہری کو بینکوں کے بار بار چکر نہ لگانے پڑیں، حکومت کو قرضوں کی فراہمی میں بھرپور کردار ادا کرنے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔ زرعی شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھی کی ہڈی ہے اور اس کی ترقی کیلئے اقدامات قومی ذمہ داری ہے جو کہ حکومت احسن انداز میں نبھا رہی ہے اس کے ثمرات سے عام شہری مستفید ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کسانوں کو مالی وسائل تک آسان اور بلارکاوٹ رسائی فراہم کی جائے۔ ایسی جائیدادوں کا جامع سروے کیا جائے جنہیں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت گھر بنانے کے خواہش مند افراد کو بینک قرض فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک موصول ہوئی ایک لاکھ 47ہزار 504 درخواستوں میں سے 53ہزار 127 منظور کی گئیں، 8ہزار 739 درخواست گزاروں کو 45 ارب 43کرور روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں ایسے پلاٹس کی نشاندہی کیلئے نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ جو رہن کی شرائط پر پورا اترتے ہوں۔ اس نظام کا پائلٹ منصوبہ اسلام آباد سے شروع کیا جائے گا۔ معروف ہائوسنگ ڈویلپرز کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگست 2026ء تک بینکوں کی جانب سے زرعی شعبے کو فراہم قرضوں کا حجم ایک کھرب 26 ارب 80کروڑ روپے رہا۔ ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-28ء کے تحت جون 2028ء تک زرعی قرضوں کا ہدف 2کھرب روپے مقرر کیا گیا۔ زرخیر ایپ کے ذریعے آسان قرضوں کیلئے اب تک 35ہزار 838 درخواستوں میں سے 7 ارب 35کروڑ روپے کے قرضے منظور جبکہ ایک ارب 96کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ اگست 2026ء تک چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے شعبے کو بینکوں سے ایک کھرب 6ارب 70کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔ ایس ایم ای ڈی اے نے گزشتہ 3ماہ کے دوران ایک ہزار 96 چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو مالیاتی امور سے متعلق تربیت بھی فراہم کی ہے۔ حکومت کا چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کیلئے آسان قرضہ سکیم کا اجراء بہت اچھا اقدام ہے۔ اس اقدام سے چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کو اپنا روزگار چلانے کیلئے مشینری کی فراہمی اور دیگر امور میں حکومت کا اقدام معاون ثابت ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بے شمار خاندان برسوں کرائے کے مکانوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ بہت سے ہنرمند افراد معمولی سرمایہ نہ ہونے کے باعث اپنا کاروبار شروع نہیں کر پاتے۔ سستے گھروں کی تعمیر کے لیے مالی معاونت اور چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرضوں سے تعمیرات’ روزگار اور معاشی گرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ تاہم اس سکیم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قرضوں کی منظوری کا عمل شفاف’ آسان اور غیر ضروری کاغذی کارروائی سے پاک ہو، تاکہ اصل مستحقین ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سستے گھر اور آسان قرضہ سکیموں کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے’ مستحق افراد کی رہنمائی’ شفاف میرٹ’ آسان اقساط اور بلاامتیاز رسائی اس پروگرام کی کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔ اگر یہ سہولتیں حقیقی معنوں میں کم آمدن والے خاندانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کیلئے پہنچتی ہیں تو نہ صرف لاکھوں لوگوں کے بیروزگار اور رہائش کے مسائل کم ہونگے بلکہ ملکی معیشت میں بھی نچلی سطح سے مضبوطی پیدا ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں