محکمہ تعلیم نجی سکولز کا اپنے پاس موجود ریکارڈ ہی بار بار طلب کرنے لگا

فیصل آباد (ایجوکیشن رپورٹر) نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، بلڈنگ فٹنس، ہیلتھ سرٹیفکیٹ، فیسوں، اساتذہ کی تعداد اور تعلیمی قابلیت سمیت تمام ریکارڈ محکمہ تعلیم کے پاس موجود ہونے کے باوجود بار بار نجی سکولز سے وہی ڈیٹا طلب کرنا محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان بن گیا، محکمہ تعلیم کے پاس مکمل ریکارڈ موجود ہے تو پھر سرکاری اساتذہ کو کلاس رومز سے نکال کر نجی سکولز میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے بھیجنے کا جواز کیا ہے؟ ایسے اقدامات سے نجی سکولز کے مالکان کو پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری سکولوں کے ہزاروں بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ رانا شاہد مقرب۔ تفصیلات کے مطابق نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے وقت پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ممبر اور محکمہ تعلیم سے منظور شدہ انجینئرز سکولز کا باقاعدہ معائنہ کرکے بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں، جبکہ محکمہ صحت کے افسران سکولز کا وزٹ کرکے ہیلتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ اسی طرح فیسوں، اساتذہ کی تعداد، تعلیمی قابلیت اور دیگر تمام مطلوبہ معلومات آن لائن فراہم کی جاتی ہیں جبکہ اصل دستاویزات کی مکمل فائل محکمہ تعلیم کے دفتر میں جمع کروائی جاتی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ رجسٹریشن کے بعد محکمہ تعلیم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے ارکان اصل دستاویزات کی فائل کے ہمراہ نجی سکولز کا دورہ کرکے ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور سکول کی انسپیکشن کرتے ہیں۔ انسپیکشن کے بعد کیس ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی (DRA) کے اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے، جس کے سربراہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد ہوتے ہیں، اور منظوری کے بعد نجی تعلیمی اداروں کو ای لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔*پرائیویٹ سکولز فورم پنجاب کے عہدیداران و ممبران نے سخت سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک نجی سکول کا ریکارڈ رجسٹریشن سے قبل انجینئر، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم کی انسپیکشن ٹیم اور بعدازاں DRA تک متعدد مراحل سے گزر کر محکمہ تعلیم کے ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر چند ماہ بعد اسی سکول سے دوبارہ وہی معلومات طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟*اگر محکمہ تعلیم کا اپنا جمع شدہ ریکارڈ ضرورت کے وقت دستیاب نہیں تو اس انتظامی اور ریکارڈ مینجمنٹ کی ناکامی کا بوجھ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان اور سرکاری اساتذہ پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ کیا محکمہ تعلیم کے پاس موجود ریکارڈ صرف فائلوں کی زینت بنانے کے لیے ہے؟چیرمین پرائیویٹ سکولز فورم پنجاب رانا شاہد مقرب نے کہا کہ سرکاری اساتذہ کا بنیادی کام بچوں کو تعلیم دینا ہے، انہیں بار بار غیر تدریسی سرگرمیوں کے لیے کلاس رومز سے باہر نکالنا تعلیمی نظام کے ساتھ مذاق ہے۔ ایک طرف حکومت تعلیمی معیار بہتر بنانے کے دعوے کر رہی ہے اور دوسری طرف اساتذہ کو تدریس سے ہٹا کر ایسے کاموں پر لگا دیا جاتا ہے جو محکمہ تعلیم اپنے دستیاب ریکارڈ سے باآسانی مکمل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان پہلے ہی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے لیے تمام مطلوبہ دستاویزات فراہم کرچکے ہیں، اگر کسی مخصوص ڈیٹا میں تبدیلی یا کمی بیشی کی تصدیق ضروری ہو تو وہ الگ معاملہ ہے، لیکن ہر مرتبہ مکمل ڈیٹا دوبارہ اکٹھا کرنا وقت اور وسائل کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔رانا شاہد مقرب نے مزید کہا کہ محکمہ تعلیم کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بجائے ڈیٹا مینجمنٹ پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک مرتبہ فراہم کیے گئے ریکارڈ کو مرکزی ڈیجیٹل نظام میں محفوظ کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی افسر کو مطلوبہ معلومات چند منٹوں میں دستیاب ہوسکیں اور سرکاری اساتذہ کو کلاس رومز سے نکالنے کی ضرورت نہ پڑے۔چیرمین پرائیویٹ سکولز فورم پنجاب رانا شاہد مقرب، ممبر ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی فیصل آباد چوہدری ندیم سندھو، میاں شکیل احمد، رانا جابر رشید، چوہدری گلزار حسین، سید ابرار حسین شاہ، رانا خلیل احمد، میاں ندیم شہزاد، حاجی جاوید اقبال و دیگر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں اور سرکاری اساتذہ کو غیر ضروری ڈیٹا اکٹھا کرنے کی مشق میں الجھانے کے بجائے محکمہ تعلیم کے پاس موجود ریکارڈ کو موثر انداز میں استعمال کیا جائے، سرکاری اساتذہ کو ہر ممکن حد تک کلاس رومز تک محدود رکھا جائے اور محکمہ تعلیم اپنی توجہ کاغذی کارروائی کے بجائے بچوں کے تعلیمی معیار کی بہتری پر مرکوز کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں