عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے اہم حکومتی اقدام (اداریہ)

ملک کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی کی جانب پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت حکومت کی جانب سے بجلی کی خریداری کے موجودہ طریقہ کار سے دستبردار ہونے اور صارفین کو اپنی ضرورت کے مطابق بجلی خریدنے کا اختیار دینے کی بات کی گئی ہے۔ وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد بجلی کے شعبے میں مسابقت پیدا کرنا’ صارفین کو زیادہ اختیارات دینا اور توانائی کے نظام کو جدید تقاضوں کو زیادہ اختیارات دینا اور توانائی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے جس کے اثرات بجلی پیدا کرنے’ ترسیل’ تقسیم اور صارفین تک بجلی پہنچانے کے پورے نظام پر مرتب ہونگے۔ پاکستان میں بجلی کا شعبہ کافی عرصہ سے مختلف مسائل کا شکار ہے۔ مہنگی بجلی’ گردشی قرضہ’ ترسیلی تقسیمی نقصانات بجلی چوری اور بعض اوقات طلب ورسد میں فرق جیسے مسائل نے توانائی کے شعبے کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ ایسے میں اگر صارفین کو بجلی خریدنے کے لیے مختلف ذرائع اور کمپنیوں میں انتخاب کا موقع ملتا ہے تو اس سے بجلی کے شعبے میں مسابقت پیدا ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم اس نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہو گا کہ اس کے قواعد وضوابط واضح ہوں اور صارفین کے حقوق کا مکمل تحفظ بھی کیا جائے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے، کسی کو حق نہیں ہو گا کہ حکومت کو بجلی بیچ سکے اور نہ حکومت خرید سکے گی، ملک میں بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے آپس میں خود خریدوفروخت کریں گے۔ اس نظام کا اطلاق سب سے پہلے صنعتی یا بڑے صارفین پر ہو گا، نظام کو مزید شفاف بنانے سے صارفین کو کم قیمت بجلی میسر آ سکے گی، عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ترجیح ہے، آئندہ 5 سال میں 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں بجلی حکومت خریدتی ہے اور اپنے ترسیلی نظام کے ذریعے صارفین تک بھی پہنچاتی ہے، تاہم بجلی کی قیمت’ آئی پی پیز اور واپڈا سمیت مختلف معاملات پر گزشتہ 25، 30 سال سے سوالات اٹھتے رہے ہین، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت نے اس ارادے کو عملی شکل دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت حکومت کے لیے بجلی کی خریداری لازم نہیں ہو گی اور بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے آپس میں براہ راست خریدوفروخت کر سکیں گے۔ اس نظام کا پہلا مرحلہ صنعتی اور بڑے بجلی صارفین کے لیے شروع کیا جا رہا ہے، جس میں ایک میگاواٹ یا اس سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین مستفید ہونگے، شفاف میکنزم کے تحت صارفین اپنی ضرورت کے مطابق سستی بجلی خرید سکیں گے۔ یہ نظام بتدریج وسعت اختیار کرے گا اور آئندہ چند سالوں میں عام صارفین، جن میں 200 اور 400 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین بھی شامل ہیں، تک اس کے فوائد پہنچیں گے۔ سستی بجلی سے صنعت کو بھی فائدہ ہو گا اور صنعتی شعبہ عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کو زیادہ مسابقتی نرخوں پر پیش کر سکے گا۔ بجلی کے اخراجات میں کمی سے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں بھی مدد ملے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ اس پالیسی کی تفصیلات عوام کے سامنے واضح کرے۔ صارفین کو نئے نظام کے طریقہ کار سے آگاہ کرے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ بجلی کے شعبے میں آنے والی تبدیلی عام آدمی کے لیے سہولت کا باعث بنے، نہ کہ مزید پیچیدگی کا۔ توانائی کے شعبے میں حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب بجلی سستی’ قابل اعتماد اور ہر صارف کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں