آبنائے ہرمز کھولنے کی ایرانی یقین دہانی (اداریہ)

ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کی ناکہ بندی ختم کر ے تو تہران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے پر غور کر سکتا ہے۔ موجودہ کشیدگی نے خطے کے امن واستحکام کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے ایسے حالات میں مذاکرات کی پیشکش کو کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عالمی ادارے اقوام متحدہ پر اعتماد ختم ہو چکا ہے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ امن اور سلامتی کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ بعض ممالک خود کو بین الاقوامی قوانین اور اداروں سے بالاتر سمجھتے ہیں اور ان کے اتحادیوں کو بھی کارروائیوں سے استثنیٰ حاصل رہتا ہے۔ انہوں نے مغربی اور یورپی ممالک پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انسانی حقوق او عالمی قوانین کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے ممالک موجودہ صورتحال پر خاموش ہیں، دوسری جانب ان الزامات پر غور کرنا چاہیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس دنیا میں اعتماد بحال کرنے اور جنگ وخونریزی کے خاتمے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو گا ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور ایرانی عوام کو پیش آنے والے نقصانات کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔ میناب اور لامرد میں ایرانی بچوں اور دیگر شہریوں کو پیش آنے والے واقعات اور ان کے ذمہ داروں کی کارروائیوں پر بھی عالمی برادری کے سامنے بات بھی کی جائے گی۔ دشمن کی مبینہ دھوکا دہی اور وعدوں کی پاسداری نہ کرنے سے متعلق اپنا مؤقف دنیا کے سامنے رکھیں گے۔ ایران کئی مرتبہ مذاکرات کی میز پر بیٹھا اور معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے، تاہم دوسرے فریق نے ان معاہدوں کا احترام نہیں کیا۔ ایرانی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں امن واستحکام کے لیے انسانی حقوق اور اقوام عالم کے حقوق کا احترام ضروری ہے۔ ایران’ فلسطین’ غزہ’ شام اور یمن میں ہونے والے مظالم کو دنیا سے چھپایا نہیں جا سکتا۔ دشمن مصنوعی ذہانت اور جدید ہتھیاروں سے کیے جانے والے جرائم کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی قرار دیتا ہے۔ غزہ’ فلسطین’ شام او رایران میں حملوں کا نشانہ بننے والے طلباء اور عام شہری دہشت گرد نہیں تھے۔ ایران نے مضبوطی اور طاقت کے ساتھ اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے۔ تمام تر ناانصافیوں اور مشکلات کے باوجود ایرانی قوم باوقار انداز میں مضبوطی سے کھڑی رہی اور ایرانی قوم اپنے وطن کے لیے آخری دم تک اسی طرح ڈٹی رہے گی۔ ادھر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی ختم کی جائے تو دو روز میں آبنائے ہرمز کھول دینگے۔ ایرانی قیادت کی طرف سے مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ایران بھی خطے میں امن کا خواہاں ہے اور وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ خطے میں امن قائم ہو اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر جانے سے روکا جائے۔ لہٰذا خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں میں تیزی لائی جائے اور امریکہ وایران کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں