لاہور (بیوروچیف) پنجاب بھر میں فضائی آلودگی کے ذرائع کی نگرانی اور انسداد سموگ کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ڈرون سکواڈ، نائٹ سکواڈ اور ہاک آئی فیلڈ سکواڈ متحرک ہیں، جبکہ خلاف ورزیوں پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں 64صنعتی یونٹس کی انسپکشن کی گئی۔ خلاف ورزی پر ایک یونٹ سیل، ایک کو نوٹس جاری اور 2لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔اینٹوں کے بھٹوں کیخلا ف کارروائی کے دوران 117بھٹوں کی انسپکشن کی گئی، ایک بھٹہ سیل، ایک مقدمہ درج اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف 33 انسپکشنز کے دوران 26 کلوگرام پلاسٹک بھی ضبط کیا گیا۔کمرشل کچنز اور باربی کیو پوائنٹس پر دھوئیں کی روک تھام کے لیے 15 مقامات کی چیکنگ کی گئی، جبکہ 10 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کیے گئے۔ حکام کے مطابق ان ہڈز کی تنصیب کے ساتھ ان کی مثر فعالیت کی نگرانی بھی جاری ہے۔مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب میں چاول کی فصل کی کٹائی 53 فیصد مکمل ہو چکی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 33 لاکھ 57 ہزار 949 ایکڑ رقبے پر فصل کاٹی جا چکی ہے۔کسانوں کو فصلوں کی باقیات کے بہتر انتظام کے لیے 10 ہزار سپر سیڈرز فراہم کیے جا چکے ہیں۔ صوبے میں 187 بیلرز فعال ہیں، جن کے ذریعے ایک لاکھ 31 ہزار 913 ایکڑ رقبے پر کام مکمل کیا گیا، جبکہ کبوٹا مشینوں کے ذریعے 5 لاکھ 43 ہزار 809 ایکڑ رقبے پر فصل کی کٹائی مکمل کی جا چکی ہے۔سینئر صوبائی وزیر کے مطابق فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کے لیے کسانوں کو 5 لاکھ 7 ہزار 116 وارننگ نوٹس جاری کیے گئے۔ آگ لگانے کے 114 شواہد سامنے آنے پر 55 مقدمات یا استغاثے درج کیے گئے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ کسان فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے ماحول دوست طریقے اختیار کریں، جبکہ جدید زرعی مشینری، کسانوں کی آگاہی اور قانونی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔




