فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پا کستا ن ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PHMA)نارتھ زو ن کے چیئرمین میاں فرخ اقبال نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد اسے 12 فیصد کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات کے شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب برآمد کنندگان پہلے ہی پیداواری لاگت میں اضافے، مہنگی توانائی، بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات اور عالمی منڈیوں میں سخت مسابقت کا سامنا کر رہے ہیں، شرحِ سود میں اضافہ انتہائی مایوس کن ہے۔ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینے اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے یہ فیصلہ کاروبار کی لاگت میں مزید اضافے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کو کمزور کرنے کا باعث بنے گا۔میاں فرخ اقبال نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں قرضوں پر شرحِ سود خطے کے دیگر مسابقتی ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ صنعت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پالیسی ریٹ 12 فیصد ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں 9.5 فیصد، سری لنکا میں 8.75 فیصد اور بھارت میں 5.5 فیصد ہے۔ شرحِ سود میں یہ نمایاں فرق پاکستانی برآمد کنندگان، بالخصوص ٹیکسٹائل اور ہوزری کے شعبوں، کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ عالمی خریدار مناسب قیمت، معیاری مصنوعات اور بروقت ترسیل کے تقاضے کرتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ٹیکسٹائل اور ہوزری کی برآمدی صنعت کو خام مال کی خریداری، پیداواری عمل جاری رکھنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل کے لیے سستے قرضوں کی ضرورت ہے۔ شرحِ سود میں اضافے سے مالیاتی اور پیداواری اخراجات بڑھتے ہیں، منافع کی شرح کم ہوتی ہے، نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے علاقائی حریفوں کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔




