نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور چین نے ایران امریکا جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں بڑی تباہی کا انتباہ جاری کردیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چینی مندوب نے خبردار کیا کہ دوبارہ جنگ سے بڑی تباہی آئے گی۔ عالمی معیشت کے مسائل مزید سنگین ہوں گے ۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں سے مسائل پیدا ہوئے ۔ چینی مندوب نے مطالبہ کیا کہ ایران کے جوہری معاملے پر دہرے معیار کو ترک کیا جائے۔اقوام متحدہ میں قائم مقام پاکستانی مندوب عثمان جدون نے بھی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا سفارتی حل پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ تمام فریق کشیدگی بڑھانے والے بیانات اور اقدامات سے گریز کریں۔عثمان جدون نے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا حل مذاکرات اور سفارت کاری سے نکالا جائے۔ اس معاملے کو عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ذریعے حل کیا جائے اورآئی اے ای اے کو اپنے تکنیکی مینڈیٹ کے تحت بلا رکاوٹ کام کرنے کا موقع دیا جائے۔پاکستانی مندوب نے کہا پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کے جوہری تنازع کا پرامن حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔دوسری جانب امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نومبر میں ایران پر مختصر لیکن شدید نوعیت کے حملے کی منظوری دیں گے۔ منصوبے سے مشرق وسطی میں اتحادیوں کو بھی آگاہ کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کے حق میں ہیں۔ نئے حملوں کیلئے امریکی بمبار اور لڑاکا طیارے تیار کیے جارہے ہیں ۔ میزائل دفاعی نظام کو بھی مزید مضبوط کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل بھی ایران کے خلاف نئے حملوں کی تیاری کررہا ہے۔ دوسری جانب ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے باوجود سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔




