فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ضلع فیصل آباد عادل عمر وڑائچ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کسانوں کی خوشحالی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ جدید زرعی تحقیق اور معیاری کھادوں کے استعمال سے گندم سمیت تمام فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ وہ فیصل آباد میں فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی اور محکمہ زراعت حکومت پنجاب کے باہمی تعاون سے منعقدہ سرسبز گندم کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول پنجاب ڈاکٹر عامر رسول ورک،ڈاکٹر نوید احسن ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول نارتھ زون، ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد ڈویژن خالد محمود، پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضی سندھو (ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد) ڈاکٹر عبدالحسیب ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی ، ڈاکٹر ماجد سلیم سینئر سائنٹسٹ، ڈپٹی ڈائرکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد حافظ عدیل احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن تحصیل فیصل آباد اور تحصیل چک جھمرہ سمیت زرعی ماہرین، فاطمہ فرٹیلائزر کے نمائندگان اور بڑی تعداد میں کسان شریک ہوئے۔فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کی جانب سے امانت علی سندھو (ٹیکنیکل سروسز آفیسر فیصل آباد)، عمار جنید (ڈسٹرکٹ سیلز مینجر فیصلآباد)، عامر واحدگل ڈسٹرکٹ سیلز مینجر جڑانوالہ، محمد یاسین ڈسٹرکٹ سیلز مینجر چنیوٹ، محمد عمران حسین (ڈیولپمنٹ مینجر نارتھ2) اسلام الدین میمن ریجنل سیلز مینجر فیصل ریجن نے شرکت کی۔اپنے خطابات میں ماہرین نے کہا کہ پاکستانی زمینوں کے لیے فاطمہ فرٹیلائزر کی تیزابی اثر والی کھادیں سرسبز نائٹروفاس اور کین گوارا نہایت موزوں ہیں۔ ان کے باقاعدہ استعمال سے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں 10 سے 15 فیصد تک یقینی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضی سندھو نے کہا کہ گندم کی زیادہ پیداوار کے لیے فاسفورس اور نائٹروجن اجزا کا متوازن استعمال ضروری ہے۔۔ڈاکٹر ماجد سلیم نے گندم کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی اور نئی اقسام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اختتام پر اسلام الدین میمن ریجنل سیلز مینجر فیصل آباد ریجن فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کی جانب سے محکمہ زراعت، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، زرعی ماہرین اور کسانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی ہمیشہ کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملکی زرعی ترقی کے لیے جدید تحقیق و رہنمائی فراہم کر رہی ہے۔




