اراکین پارلیمنٹ کی متنازع ترقیاتی سکیمیں بحال

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے پہلے سال کی تکمیل کے موقع پر رواں مالی سال کے ابتدائی 7ماہ میں 460ارب روپے سے زائد کے ریونیو شارٹ فال کے باوجود پارلیمنٹیرینز کی متنازع ترقیاتی اسکیموں کو بحال کر دیا ہے، یہ اسکیمیں پہلی ششماہی میں شروع نہیں ہوسکی تھیں۔رپورٹ کے مطابق ایک بڑے اقدام کے طور پر حکومت نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام (ایس اے پی) کے کوڈ نام سے ان سیاسی اسکیموں کا حجم2024-25 کے بجٹ میں مختص 25ارب روپے سے بڑھا کر دو گنا کرتے ہوئے تقریباً 50ارب روپے کر دیا ہے۔کمیٹی نے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے اس مطالبے کو بھی مسترد کر دیا کہ وہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 30 ارب روپے کے غیر استعمال شدہ فنڈز کو آگے بڑھائے۔حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے پہلے سے نافذ کردہ اصولوں میں بھی نرمی کی ہے، تاکہ حکومت سے وابستہ اراکین پارلیمنٹ کو مطمئن کرنے کے لیے فنڈز کی فوری تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے، یہ گزشتہ ہفتے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں تقریبا 300فیصد اضافے کے علاوہ ہے۔حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ اس طرح کی زیادہ تر اسکیموں پر عمل درآمد کرنے والے پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کو ختم کر دیا گیا ہے، لہٰذا یہ کام وزارت ہائوسنگ کی پاکستان انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی ڈی سی ایل) کو دیا جائے۔حال ہی میں ڈپٹی وزیراعظم اسحق ڈار کی سربراہی میں اسٹیئرنگ کمیٹی برائے ایس اے پی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ نے مالی سال 2023-24 کے دوران ختم ہونے والے فنڈز کی دوبارہ توثیق کے لیے خطوط لکھے تھے۔یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی اس وقت کی حکومت نے مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں پارلیمنٹیرینز اسکیم کے لیے 91ارب روپے مختص کیے تھے، اور نگران حکومت کی جانب سے ان کی جگہ لینے سے قبل تقریباً 61ارب روپے تقسیم کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔اس کے نتیجے میں مالی سال کے اختتام تک تقریباً 57ارب روپے استعمال کیے جا سکے تھے، پیپلز پارٹی کے 2آئینی عہدیدار چاہتے تھے کہ باقی 34ارب روپے اس سال استعمال کیے جائیں، تاہم اسحق ڈار نے وضاحت کی کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019گزشتہ سالوں کے ضائع شدہ فنڈز کی اس طرح کی دوبارہ توثیق کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا کمیٹی ان تجاویز پر اتفاق کرنے پر مجبور محسوس کرتی ہے۔وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت مالی سال 2024-25 کے لیے ایس اے پی کے لیے 50ارب روپے مختص کیے ہیں۔تاہم وزارت کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب پی ایس ڈی پی میں متعلقہ اسکیموں کی منظوری کے بغیر ایس اے پی کے لیے 25ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر منصوبہ بندی کے بیان کی بنیاد پراسٹیئرنگ کمیٹی کے تمام ارکان نے اتفاق کیا کہ ایس اے پی فنڈز متعلقہ وفاقی وزارتوں /ڈویژنز اور صوبائی حکومتوں کو جاری کیے جاسکتے ہیں۔کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی سے منظوری کے بعد ایس اے پی اسکیموں پر عملدرآمد کے لیے 48.37ارب روپے جاری کرنے اور فنانس ڈویژن سے سہ ماہی ریلیز حکمت عملی میں نرمی کی منظوری دی۔کمیٹی 27ارکان پر مشتمل تھی جس میں 16ارکان پارلیمنٹ، 7وفاقی سیکریٹریز اور 4صوبائی نمائندے شامل تھے۔اراکین پارلیمنٹ میں راجا پرویز اشرف، شازیہ مری، سردار یوسف زمان، ریاض الحق، جاوید حنیف خان، خالد مگسی، اعجاز الحق اور طارق فضل چوہدری شامل ہیں۔ 48ارب 37کروڑ روپے میں سے 28ارب 87کروڑ روپے پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے منظور کیے، اس کے بعد سندھ کے لیے 15ارب 25کروڑ روپے، بلوچستان کے لیے 2ارب 25کروڑ روپے، خیبر پختونخوا کے لیے ایک ارب 25کروڑ روپے اور اسلام آباد کے لیے 75 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے تقریبا 40 ارب روپے تقسیم کرنے کی منظوری دی جاچکی ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے اب تک بنیادی ترقیاتی پروگرام پر کڑی نظر رکھی ہے، جس کے تحت مالی سال کی پہلی ششماہی میں صرف 148ارب روپے استعمال کیے جاسکے ہیں، جو کہ ایک ہزار 100ارب روپے کے مختص کردہ بجٹ کا 10.45 فیصد ہیں۔یہ استعمال مطلق اور فیصد دونوں لحاظ سے پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اور بھی کم ہے جب نگران حکومت قائم تھی، گزشتہ سال 6 ماہ کے لیے 150 ارب روپے استعمال کیے گئے تھے جو سالانہ مختص 940 ارب روپے کا 16 فیصد بنتا ہے۔نسبتاً زیادہ اخراجات کے باوجود پی ایس ڈی پی کے اخراجات سال کے آخر تک 635ارب روپے سے آگے نہیں بڑھ سکے اور بجٹ مختص کردہ رقم کا تقریبا ایک تہائی خسارے کی فنانسنگ کے لیے استعمال کیا گیا، اگر یہ اشارہ ہے تو اس سال ترقیاتی پروگرام کے 600 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان نہیں ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے اعلان کردہ میکانزم کے تحت حکومت کو پہلی سہ ماہی میں مختص بجٹ کا 15 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 20فیصد، تیسری سہ ماہی میں 25فیصد اور مالی سال کی آخری سہ ماہی میں بقیہ 40فیصد جاری کرنا ہوگا۔اس طرح دسمبر کے آخر تک پی ایس ڈی پی کا تخمینہ سالانہ مختص کا کم از کم 35فیصد یا 385ارب روپے سے کم نہیں ہونا چاہیے، جو 6ماہ میں اصل اخراجات سے تقریباً 3گنا زیادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں