اسرائیل کی فوجی تاریخ اس کے عرب ہمسایہ ممالک بشمول مصر، اردن، لبنان، اور شام کے ساتھ متعدد تنازعات سے عبارت ہے۔ یہ جنگیں، جو 1940کی دہائی میں شروع ہوئیں اور 1970اور 1980کی دہائیوں تک جاری رہیں، اسرائیل کی فوجی برتری اور اس کے عرب مخالفین کو تیزی سے شکست دینے کی صلاحیت سے نمایاں تھیں۔ تاہم، اسرائیل اور ایران (ایک عجمی ملک) کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے نے خطے میں تنازعا ت کی حرکیات کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اسرائیل کی عرب ممالک کے ساتھ ماضی کی جنگیں نمایاں فوجی فتوحات سے ممتاز تھیں، جو اکثر نسبتاً آسانی سے حاصل کی گئیں۔ 1948کی عرب اسرائیل جنگ، 1956کا سوئز بحران، 1967کی چھ روزہ جنگ، اور 1973کی یوم کپور جنگ اسرائیل کی فوجی صلاحیت کی قابل ذکر مثالیں ہیں۔ ان میں سے ہر تنازعے میں، اسرائیل کی اعلی فوجی تربیت، ٹیکنالوجی، اور حکمت عملی نے اسے بالادستی حاصل کرنے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی اجازت دی۔تاہم، خطے میں تنازعات کی حرکیات ایران، پاکستان، اور ترکی جیسے عجمی ممالک کے ابھرنے کے ساتھ نمایاں طور پر تبدیل ہو گئی ہیں۔ اسرائیل کا ان عجمی ممالک کو کمزور عرب ممالک کی طرح سمجھنا ایک بڑی جنگی غلطی ہو گی۔ ان ممالک نے اپنی فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے اور اسرائیل کی بالادستی کو چیلنج کرنے کا پختہ عزم دکھایا ہے۔اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ تنازعہ خطے کی حرکیات میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پہلی بار، اسرائیل کو ایک عجمی ملک کا سامنا ہے جس کی نمایاں فوجی صلاحیتیں ہیں اور اسرائیل کی بالادستی کو چیلنج کرنے کا پختہ عزم ہے۔ اسرائیل کے اقدامات پر ایران کا ردعمل شدید جوابی کارروائی سے عبارت ہے اسرائیل اپنی تمام تر جنگی قوت کے باوجود ابھی تک ایران کا حوصلہ پست نہ کر پایا، جس نے بہت سے مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ پاکستان ، ایران، اور ترکی جیسے عجمی ممالک اسرائیل کیلئے عرب ممالک کی طرح آسان ہدف نہیں ہیں۔ ان ممالک کے پاس اچھی تربیت یافتہ اور ٹیکنالوجی سے لیس فوجیں ہیں، اور انہوں نے مختلف معرکوں میں اپنی فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان کی فوج خطے کی سب سے مثر افواج میں سے ایک کے طور پر شہرت رکھتی ہے، اور ہند-پاک جنگ میں اس کی حالیہ کارکردگی نے اس کی برتری کو ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کی فوجی صلاحیتیں، بشمول اس کا جوہری پروگرام، اسے اسرائیل کیلئے ایک زبردست حریف بنا دیں گی۔ دوسری طرف، ترکی کی ایک مضبوط فوجی روایت ہے اور اس نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ ترکی کا اسٹریٹجک محل وقوع، جو یورپ اور مشرق وسطی کو جوڑتا ہے، بھی اسرائیل کے لیے کسی تنازعے میں شامل ہونا ایک اہم چیلنج بنا دے گا۔اگر اسرائیل پاکستان اور ترکی جیسے دیگر عجمی ممالک کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے، تو اسے ممکنہ طور پر بہت زیادہ مشکل نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان اور ترکی دونوں نے اپنی فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے اور اسرائیل کیلئے ایک اہم چیلنج ثابت ہوں گے اور خطے اور دنیا کے لیے نمایاں مضمرات ہوں گے، اور ممکنہ نتائج پر محتاط غور و فکر کی ضرورت ہوگی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعہ کے خطے اور دنیا کے لیے نمایاں مضمرات ہیں۔ یہ مشرق وسطی میں تنازعات کی بدلتی ہوئی حرکیات کو اجاگر کرتا ہے، جہاں عجمی ممالک زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اسرائیل کے لیے اپنی فوجی حکمت عملی کو ایران جیسے ممالک کی طرف سے پیش کردہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ڈھالنے کی ضرورت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔نتیجتاً، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعہ خطے کی حرکیات میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسرائیل کی ایران کے خلاف جدوجہد مشرق وسطی میں تنازعہ کی بدلتی ہوئی نوعیت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عجمی ممالک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ اس تنازعے میں اسرائیل کے چیلنجوں کے پیچھے کی وجوہات کو سمجھنا خطے میں سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کیلئے مثر حکمت عملی تیار کرنے کیلئے بہت ضروری ہے۔پاکستان، ایران، اور ترکی جیسے عجمی ممالک اسرائیل کیلئے آسان ہدف نہیں ہیں، اور ان ممالک کے ساتھ کسی بھی تنازعے کے اسرائیل اور خطے کیلئے نمایاں نتائج ہوں گے ۔ اسرائیل کو ایسے تنازعے کے ممکنہ نتائج پر محتاط غور کرنا ہوگا اور ان ممالک کی طرح آسان ہدف سمجھنا اسرائیل کو ناقابلِ یقین نقصان سے دوچار کر سکتا ہے۔




