اسلام آباد (بیوروچیف) 184ویں آئی بی سی سی فورم میں ملک بھر کے امتحانی نظام کو رٹہ سسٹم سے فہم اور تصوراتی جانچ کی جانب منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیاجبکہ امتحانی اور اسیسمنٹ نظام میں ملک بھر میں یکسانیت لانے کے اقدامات کی منظوری دی گئی۔نئی گریڈنگ پالیسی کے تحت کم از کم پاسنگ مارکس 40 فیصد مقرر کیے گئے ہیں۔ سندھ، فیڈرل، میرپور آزاد کشمیر، قراقرم، آغا خان اور ضیا الدین بورڈز میں نئی گریڈنگ پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سرٹیفکیٹس پر ب فارم یا شناختی کارڈ نمبر درج کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔آئی بی سی سی بورڈز کے پوزیشن ہولڈرز کو اسکالرشپس اور بیرونِ ملک تعلیمی مواقع فراہم کرے گا، جبکہ نمایاں طلبہ کے لیے ونٹر اور سمر کیمپس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مزید 12 دینی مدارس کی اسناد کو سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ کے مساوی قرار دینے کی سفارش کی گئی، جس کے بعد آئی بی سی سی فریم ورک کے تحت مساوی اسناد والے دینی مدارس کی تعداد 26 ہوگئی ہے۔




