انسانی بقا میں جنگلات کا کردار

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے۔جو ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ ترقی پذیر ممالک وہ ہیں جن کی معیشتیں، صنعتی اور سماجی ترقی کے معیار ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں، جہاں عام طور پر جمہوریت، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کے مصائب مغرب کے مقابلے میں نچلی سطح پر ہوتے ہیں، اگر ہم اپنے ریجن کے ممالک کی بات کریں ان میں پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان، انڈیا شامل ہیں، جو باہمی تعاون سے اپنے مسائل حل کرنے اور ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک گھبیر مسائل کا شکار نظر آتے ہیں۔ جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جن میں آبادی میں اضافہ اور طبقات کے درمیان عدم توازن سرفرصت ہیں۔اگر ہم مملکت خداداد پاکستان کی بات کریں تو ہم اتنے زیادہ مسائل کا شکار ہیں۔ جن میں آبادی میں روز بروز اضافہ سیاسی عدم استحکام، معاشی عدم توازن اور معاشرے کی تقسیم خاص طور پر شامل ہیں۔ پاکستان میں آبادی کی بڑھنے کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے جو 2050 تک دوگنی ہونے کا خطرہ ہے۔ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے جنگلات کی شدید کمی ہے۔پاکستان میں جنگلات کا رقبہ ملک کے کل رقبے کا تقریبا 4.8% سے 5.7% کے درمیان ہے، جو کہ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق 09۔3 ملین ہیکٹر ہے، لیکن یہ رقبہ تشویشناک حد تک کم ہو رہا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معیار کے مطابق جنگلات کا رقبہ اس کے رقبے کا 25 فصید ہونا ضروری ہے اگر یہ 25 فصید سے کم ہے تو یہ ملک کے ماحولیاتی توازن کے لیے خطرہ ہے۔ موجودہ رقبہ: 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگلات کا رقبہ تقریبا 3.09 ملین ہیکٹر تک کم ہو گیا ہے.یہ کل رقبے کا تقریبا 4.8 فصید سے 5.7 فصید بنتا ہے، جو کہ عالمی معیار 25 فصید کے مقابلے میں بہت کم ہے. تشویشناک بات یہ ہے کہ ہر سال جنگلات کا رقبہ تقریبا 27,000 ایکڑ کم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے. پاکستان میں جنگلات صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہوتے ہیں۔ بڑے شہروں میں اربن فارسٹ کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے، اور ملک کے مجموعی ایکو سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹے پیمانے پر جنگلات قائم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔گذشتہ کئی سالوں سے ہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید سیلاب اور بارشوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ جس نے ہماری معیشت کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا ہے۔ ڈیموں کی کمی اور جنگلات کی وجہ سے ایک طرف اربوں ڈالر کا پانی سمندر برد ہو رہا ہے اور ساتھ ساتھ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ۔ جس کی وجہ سے کسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور وہ ناتلافی نقصان سے دوچار ہوا ہے۔درخت اور انسان کا رشتہ زمین پر بقا کا ہے۔ کیونکہ جب انسان کو دنیا میں بھیجا گیا تو زندگی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے میرے پروردگار نے وہ تمام سبب بھی پیدا کر دئیے جو انسان کی بقا کے لئے ضروری تھے۔درخت لگانے کی اہمیت کا اندازہ حضور نبی کریم ۖ کی احادیث مبارکہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ حضور نبی کریم ۖ نے ارشادفرمایا : جو بھی مسلمان درخت لگائے یا فصل بو ئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چو پایا کھائے تو وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہو گاایک روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ۖ نے ارشاد فرمایا : جس نے کوئی درخت لگایا اور اس کی حفاظت اور دیکھ بھال پر صبر کیا یہاں تک کہ وہ پھل دینے لگا تو اس میں سے کھایا جانے والا ہر پھل اللہ تعالی کے نزدیک اس کے لگانے والے کے لیے صدقہ ہو گا۔ کیونکہ درخت ہماری فورڈ چین کا حصہ ہیں جو فوٹو سینتزز کے ذریعے خوراک تیار کرتا ہے۔جس کو چرند پرند کھاتے ہیں اور ان کی نشوونما میں اضافہ ہوتا ہے اور آخر میں انسان اس فورڈ چین کو کھاتا ہے۔ انسان آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور درخت وہ عظیم فیکٹریاں ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے ہمیں مفت آکسیجن فراہم کرتی ہیں۔ پھل، میوے اور جڑی بوٹیاں درختوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ لکڑی تعمیرات اور ایندھن کے کام آتی ہے۔ درخت زمین کے درجہ حرارت کو کم رکھتے ہیں، سیلاب کو روکتے ہیں اور بارش لانے کا سبب بنتے ہیں۔آج انسان اپنی مادی ترقی کی خاطر ان “سبز پھیپھڑوں” کو بے دردی سے کاٹ رہا ہے، جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایک پرانی ضرب المثل ہے کہ “جس نے ایک درخت لگایا، اس نے ایک نسل کی خدمت کی”۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک صحت مند ماحول میں سانس لیں، تو ہمیں زیادہ سے زیادہ شجرکاری کرنی ہوگی۔ اس لئے ہمیں درختوں کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سوچ کو ہر فرد تک یہ پیغام پہچانا چاہئیے کیونکہ درخت اور انسان کا رشتہ لازم و ملزوم ہے، درخت ہمیں سانس لینے کے لیے آکسیجن دیتے ہیں، ماحول کو ٹھنڈا رکھتے ہیں، لینڈ سلائیڈنگ سے بچاتے ہیں اور خوراک لکڑی فراہم کرتے ہیں، جبکہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ درخت لگائے، ان کی حفاظت کرے اور ان کی بے دریغ کٹائی سے گریز کرے، کیونکہ یہ نہ صرف دنیاوی زندگی کے لیے ضروری ہیں بلکہ اسلام میں انہیں صدقہ جاریہ قرار دیا گیا ہے. اور یہ درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں، بارش میں مدد دیتے ہیں اور گلوبل وارمنگ کے اثرات کو گھٹاتے ہیں.اس کے علاوہ درختوں کی جڑیں مٹی کو مضبوطی سے پکڑتی ہیں، جس سے زمین کا کٹا اور لینڈ سلائیڈنگ رکتی ہے. جنگلات پرندوں اور جانوروں کو رہائش اور سایہ فراہم کرتے ہیں. یہ فضائی آلود گی کم کرتے ہیں اور ادویات میں بنیادی جز کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ انسان کی ذمہ داری زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو صحت مند ماحول مل سکے اور درخت لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال پر توجہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے، جس کا اجر دنیا اور آخرت میں ملتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن بھی پودا لگانے کی ترغیب دی گئی ہے. اگر درخت نہ ہوتے، تو ہم نہ ہوتے! درخت اور انسان کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ اگر انسان سمجھ جائے، تو درخت لگانے پر مجبور ہو جائے۔ ایک درخت روزانہ 4 افراد کے لیے آکسیجن پیدا کرتا ہے ۔ درخت قدرتی ایئر کنڈیشنر ہیں۔ ایک بڑا درخت ایک دن میں 20 اے سی جتنی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ جہاں زیادہ درخت ہوتے ہیں، وہاں بارش بھی زیادہ ہوتی ہے۔درختوں کا سب سے قیمتی کردار یہ ہے کہ درخت فضائی آلودگی کو کم کرتے ہیں۔ درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ سموگ دراصل فضائی آلودگی دھوئیں اور گرد و غبار اور دھند کا آمیزہ ہے، جس کے اثرات کو درختوں کے پتے ہوا میں موجود زہریلے ذرات پی ایم 5۔2 اور پی ایم 10 کو اپنی سطح پر روک لیتے ہیں اور ہوا کو صاف کرتے ہیں۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور تازہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں، جس سے ہوا کا معیار ایئر کوالٹی بہتر ہوتی ہے۔ درخت زمین اور فضا کے درجہ حرارت کو کم رکھتے ہیں، جس سے سموگ پیدا کرنے والے کیمیائی عمل کی شدت میں کمی آتی ہے۔ درخت نائٹروجن آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسی نقصان دہ گیسوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سموگ سے بچا پاکستان میں سموگ کے خاتمے کے لیے ایسے درخت لگانے کی ضرورت ہے جو مقامی ہوں اور جن کے پتے چوڑے ہوں اور جو زیادہ آکسیجن اور فضائی آلودگی کو اپنے پتوں میں جذب کر سکے جیسے پیپل اور بوہڑ۔ نیم ارجن سکھ چین وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اربن فارسٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ جب بھی کوئی ٹان پلاننگ کریں تو ان میں اربن فارسٹ کو ضرور شامل کریں تاکہ شہری علاقوں میں گاڑیوں کے دھویں کو اربن فارسٹ جذب کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں اس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں میں زہریلی گیسوں کو فلٹر کرنے کے لئے زہریلی گیسوں کو روکنے کے لیے مختلف قسم کے فلٹرز استعمال ہوتے ہیں، جن میں سب سے عام ایکٹیویٹڈ کاربن فلٹر ہیں جو گیسوں کو جذب کرتے ہیں، اور کیمیائی فلٹرجو گیسوں کو کیمیائی طور پر بے اثر کرتے ہیں، جبکہ کیسنگ فلٹرز ذرات کو روکتے ہیں، جو سانس کے ماسکس، ایئر پیوریفائر اور صنعتی نظاموں میں استعمال ہوتے ہیں تاکہ خطرناک گیسوں جیسے کاربن مونو آکسائیڈ سلفر ڈائی آکسائیڈ اور دیگر آلودگیوں سے بچا جا سکے. اور گردو و غبار کو روکنے کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کمیونٹی اور اس کے اردگرد رہنے والوں کو اعتماد میں نہ لیا جائے۔ اس لئے مملکت خداداد پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور سموگ جسے ایشوز کو کم کرنے کے لئے کمیونٹی کو متحرک کرنا پڑے گا۔ اور ہمیں قدرتی وسائل کی طرف واپس لوٹنا ہو گا۔ حکومتی اداروں کو چاہیئے کہ لوگوں کو ٹری لورز بنانے کے لئے اپنے تعلیمی اداروں میں کمپین لانچ کریں اور ان کو ہر کلاس کے سیلببس میں شامل کریں۔ جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کیا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہی ممکن ہو گا جب حکومتی سطح پر لوگوں کو یہ نظر آنا شروع ہو جاے گا کہ حکومتی ادارے لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے سنجیدہ ہیں۔ اور قانون امیر اور غریب کے لئے ایک جیسا ہے۔درخت لگانا محض ایک شوق نہیں بلکہ سموگ جیسے سنگین مسئلے سے بچنے کے لیے ایک قومی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں