اوسلو (مانیٹرنگ ڈیسک) ناروے کی ٹیلی کام کمپنی ٹیلی نار ایزی پیسہ بینک میں اپنے اکثریتی حصص فروخت کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کا پاکستان سے مکمل انخلا ممکن ہو سکتا ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی نار ایزی پیسہ بینک میں اپنے 55 فیصد حصص کی فروخت کے لیے سٹی گروپ کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حصص داری کی مالیت کئی سو ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹیلی نار آئندہ چند ماہ کے دوران ممکنہ خریداروں سے ابتدائی پیشکشیں طلب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم اس حوالے سے غور و خوض جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔گزشتہ سال ٹیلی نار نے ٹیلی کام کاروبار کو 108 ارب روپے، یعنی تقریبا 38 کروڑ 50 لاکھ ڈالر میں پی ٹی سی ایل گروپ کے حوالے کرنے کا معاہدہ مکمل کیا تھا، تاہم ایزی پیسہ، جو کمپنی کا ڈیجیٹل مالیاتی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ ہے، اس فروخت کا حصہ نہیں تھا۔31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران ایزی پیسہ بینک نے ایک ارب 49 کروڑ روپے بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا، جبکہ فی حصص آمدنی 2 روپے 47 پیسے رہی۔ اسی عرصے میں بینک کا قبل از ٹیکس منافع 3 ارب 66 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے 84 کروڑ روپے کے مقابلے میں 4 اعشاریہ 4 گنا زیادہ ہے۔بلومبرگ کے مطابق ایزی پیسہ بینک کے باقی 45 فیصد حصص چینی کمپنی اینٹ گروپ کے پاس ہیں۔




