ایچ ای سی کا اعلیٰ تعلیمی شعبے کو مصنوعی ذہانت کے فروغ پر لائحہ عمل پر غور

اسلام آباد ( بیورو چیف)ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان (ایچ ای سی )کی اعلیٰ قیادت نے یونیورسٹیوں کو ڈیجیٹل طور پر تیار کرنے اور اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کو شامل کرنے پر ایک تفصیلی مشاورت کی تاکہ جدید ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے۔ایچ ای سی کے اعلامیہ کے مطابق دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے منظر نامے کو تبدیل کرنے میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی سربراہی میں سینئر مینجمنٹ کمیٹی نے اعلیٰ تعلیم کی بدلتی ہوئی ضروریات، کیمپس کی زندگی اور اداروں کی آپریشنل اور بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتوں کے مطابق ضروری اقدامات پر غور کیا۔اس نشست کی نمایاں خصوصیت ہواوے گلوبل ایجوکیشن ڈویژن کے نائب صدر اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر مینگ گینچانگ کی خصوصی پریزنٹیشن تھی۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کی قیادت نے مقامی حالات، موجودہ نظام کی مضبوطی اور کمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹیوں کی ڈیجیٹل تیاری کے لئے حکمتِ عملی اور لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مرحلہ وار ترقیاتی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا جس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ابتدائی تجربات، نظام کی توسیع اور انضمام اور نظام کو پائیدار اور جدید بنانا شامل ہے۔انہوں نے ڈیجیٹل انضمام کی حکمت عملیوں پر عملدرآمد کے مواقع اور چیلنجز کی نشاندہی کی اور بنیادی کورسز، جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کورسز، ایپلی کیشن ڈویلپمنٹ کورسز اور تصدیقی سند (سرٹیفیکیشن)کورسز کے ذریعے تعلیمی پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے پر بھی بحث کی۔ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے عالمی سطح پر اس شعبے میں ہونے والی پیشرفت سے ہم آہنگ رہنے کے لئے اعلی تعلیم میں ڈیجیٹل اپ گریڈیشن کی مسلسل کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی بہتر آگاہی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو ڈیجیٹل بنانے کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔انہوں نے مصنوعی ذہانت کی تعلیم و تربیت، نصابی تبدیلیوں اور مالی ضروریات کے حتمی نتائج حاصل کرنے کے لئے موثر نشستوں اور رابطوں کی ہدایت کی۔ مینگ گینچانگ نے ڈیجیٹل پیشرفت اور مصنوعی ذہانت سے مختلف صنعتوں پر مرتب ہونے والے اثرات کی تفصیلی معلومات فراہم کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں