لاہور پریس کلب کی لا بی کا وہ مخصوص کونا اور را ت کے آخری پہر تین بجے کا جادوئی وقت جب دنیا سو رہی ہوتی، وہاں ایک منفرد محفل سجتی تھی۔ کیفے ٹیریا کے ساتھی منظور احمد کا خلوص چائے کے کپوں میں ”ٹاپ اپ” کی صورت چھلکتا رہتا، اور ہم سب دوست ٹکٹکی باندھے اس درویش صفت صحافی کی گفتگو میں کھو جاتے۔ وہ شخصیت کوئی اور نہیں، ڈاکٹر ارشد علی تھے، جن کی فلسفیانہ باتیں سننے والوں پر ایک سحر طاری کر دیا کرتی تھیں۔ڈاکٹر ارشد علی کا تعلیمی سفر کسی فلمی اسکرپٹ کی طرح شاندار اور متاثر کن ہے۔ انہوں نے اپنی کامیا بیوں کا آغاز لائلپور (فیصل آباد) کے پاکستان ماڈل ہائی سکول کچہری بازار سے میٹرک پا س کر کے کیا۔ اس کے بعد تو جیسے پوزیشنز ان کا مقدر بن گئیں۔ پہلے لائلپور کے میونسپل ڈگری کالج سے انٹرمیڈیٹ میں پہلی پوزیشن اڑائی، اور پھر اسی شہر کے گورنمنٹ کالج سے بی اے میں بھی ٹاپ کر کے اپنی ذہانت کا لوہا منوایا۔ اس کے بعد اس درویش نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کا رخ کیا تاکہ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کر سکے ۔ یہ وہی دور ہے جب نوجوانو ں کی سیاست میں سرگرم ایک دوست اور آجکل لاہور کے سینئر صحافی نعیم مصطفی بھی ان کے کلاس فیلو رہے۔ (دلچسپ بات یہ ہے کہ نعیم مصطفی کے بڑے بھائی، محترم حسن مصطفی میٹرک کے دنوں میں میرے پہلے مینٹور بھی ہیں)۔ ڈاکٹر ارشد علی کی علم کی پیاس یہیں ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جہاں انکی تحقیق کا موضوع جتنا منفرد تھا، اتنا ہی اہم بھی تھا یعنی ”پورٹریل آف ویمن ان پاکستانی فلم”۔ڈاکٹر ارشد علی ایک ایسی متحرک شخصیت ہیں جو کبھی ایک جگہ رکنا نہیں جانتے۔ وہ امریکی سکالرشپ پر اوکلاہاما یونیورسٹی کے ”گیلارڈ کالج آف جرنلز م اینڈ ماس کمیونیکیشن” بھی گئے جہاں خود کو فلم اور ٹیلی ویژن کے جدید علوم سے روشناس کیا۔ ہر لمحہ کچھ نیا کرنے اور کچھ نیا سیکھنے کی یہی تڑپ ڈاکٹر ارشد علی کو پوسٹ ڈاکٹریٹ کیلئے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے اسلامک ریسر چ انسٹیٹیو ٹ لے گئی۔ ڈاکٹر ارشد علی کے ابتک 36 ریسرچ آر ٹیکلز شا ئع ہو چکے ہیں ۔ انکی کئی معرو ف تصانیف میں ریڈیو جرنلزم، ایڈو ا نس نیوز تکنیکس، ایڈوا نس ٹیلی ویژ ن پروڈ کشن اور ایڈوا نس فلم پروڈ کشن بھی شا مل ہیں ۔ انکی ایک کتا ب ” جدید فلم سازی” کو اردو سا ئنس بور ڈ کی طرف سے نیشنل ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ ڈاکٹر ارشد علی کے ترجمے پر مشتمل ایک اہم کتاب ”ان سائیڈ را” پاکستان میں ”مقد س جنگ” کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔ ا نہو ں نے دورہ بھارت کا سفر نامہ ”خاردار تاروں کے اس پار” لکھا جسے دونوں دیسوں میں اردو پڑ ھنے والے اب تک یاد کرتے ہیں۔بات صرف لاہور پریس کلب میں رات کے آخری پہر کی ان فلسفیانہ محفلوں تک محدود نہیں، بلکہ ڈاکٹر ارشد علی نے عملی صحافت کے خارزار میں اپنے خونِ جگر سے کامیابی کی ایک لازوال داستان لکھی ہے۔ جرنلزم کے شعبے میں خدمات انجام دیتے ہوئے انہیں 23 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن کمال دیکھیے! وہ صرف خود آگے نہیں بڑھے، بلکہ گزشتہ بیس سالوں سے پاکستان کی ممتاز ترین درسگاہوں میں درس و تدریس کے ذریعے علم کی شمعیں بھی روشن کر رہے ہیں۔ کالم نگاری ہو، فیچر نویسی، اخبارات کی ایڈیٹر شپ ہو یا فلم پروڈیوسرشپ، ڈاکٹر صاحب نے ہر شعبے کو اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے ایک نیا اور اچھوتا روپ دے دیا۔اگرچہ ڈاکٹر صاحب کا آبائی تعلق اور یادیں لائلپور کی گلیوں سے جڑی ہیں، وہ یونیورسٹی آف گجرات جیسے نامور ادارے میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، لیکن آج کل وہ زندہ دلانِ لاہور کے دل میں مقیم ہیں۔ ان کی گفتگو کا رچائو، چائے سے محبت اور ہنستی مسکراتی پرکشش شخصیت دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ ہمیشہ سے ”پکے لاہوری” ہیں۔ ان دنو ں وہ لاہور شہر کی ہی ایک معروف نجی یونیورسٹی میں شعبہ ماس کمیونیکیشن کے سینئر پروفیسر کے طور پر نئی نسل کو جرنلزم کے جدید علوم سے روشناس کرا رہے ہیں۔لیکن ٹھہریے! اس علم دوست انسان کی مکمل زندگی کا سب سے خوبصورت گوشہ ان کی نجی زندگی ہے۔ ڈاکٹر ارشد علی صاحب اس معاملے میں بلاشبہ بے حد خوش قسمت ہیں۔ انہیں محترمہ بھابھی صاحبہ جیسی نفیس اور سمجھدار جیون ساتھی ملیں، جنہوں نے ہمارے اس رومانیت پسند، سیماب صفت دوست کا زندگی کی ہر مشکل میں بھرپور ساتھ دیا۔ محبت کے انمول اور نفیس جذبوں کے علمبردار، ڈاکٹر ارشد علی کی زندگی کا نچوڑ اور نظریہ اب صرف اس ایک خوبصورت شعر میں سمٹ آیا ہے کہ ”ایک محبت کافی ہے باقی عمر اضافی ہے”۔ شکریہ ڈاکٹر ارشد علی! آپ آج کے اس تیز رفتار دور میں بھی علم اور صحافت کی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کی محفل کا اشتیاق ہر علم دوست انسان کو رہتا ہے۔




