پاکستان’ چین کا ایران’ امریکہ کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دینا اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں امن’ استحکام اور مسئلہ کے سفارتی حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن’ معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ایک مثبت اور امیدافزا پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ چین اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے، نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفکیشل انٹیلی جنس کانفرنس کے موقع پر چین کے وزیر خارجہ وان پی سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن استحکام کے لیے سفارتی رابطوں کی بحالی ناگزیر ہے۔ تمام فریق جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی مکمل پاسداری کریں اور اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں، طاقت کے استعمال کی بجائے مذاکرات اور بات چیت ہی اختلافات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں، اس لیے امریکا اور ایران کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔ پاکستان اور چین خطے میں امن’ استحکام اور کشیدگی میں کسی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعمیری کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں او رامید رکھتے ہیں کہ امریکہ اور ایران اپنے وعدہ کی پاسداری کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدہ بڑی مشکل سے طے پایا تھا، امن ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہم آخری مرحلے پر آ کر ناکام نہیں ہو سکتے اور نہ ہی وہ کچھ کھو سکتے ہیں جو ہم حاصل کر چکے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین گزشتہ چار دہائیوں سے محاذ آرائی میں کسی فریق کو مستقل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور اقتصادی پابندیوں’ عسکری دبائو’ پراکسی تنازعات اور سفارتی تنائو کے باوجود دونوں ممالک بالآخر کسی نہ کسی مرحلے پر مذاکرات کی میز کی طرف لوٹنے پر مجبور ہوئے ہیں چنانچہ آج بھی دانش مندی کا یہی تقاضا ہے کہ طاقت کے استعمال کی بجائے سفارت کاری کا دامن تھاما جائے، اس تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ کہنا ایک حقیقت پسندانہ مؤقف ہے کہ معاملات مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔ بے شک پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن واستحکام کی بات کی ہے اس لئے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین مفاہمت کی جو یادداشت طے پائی تھی اسے دوبارہ فعال بنانے کی ضرورت ہے اگر دونوں ممالک اس پر پہلے اصولی اتفاق کر چکے تھے تو موجودہ حالات میں اسی فریم ورک کو فعال کرنا ہی قابل عمل راستہ ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان ان دونوں ممالک کے ساتھ اچھے متوازن تعلقات رکھتا ہے۔ اس لئے وہ ایران امریکہ مفاہمت کے لیے مثبت سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ امریکہ اور ایران میں کسی بڑے تصادم کی صورت میں پوری دنیا ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گی جس سے عالمی معیشت بھی سخت متاثر ہو گی اور پوری دنیا معاشی مشکلات کا شکار ہو جائے گی جس سے لاکھوں بے گناہ شہریوں کی زندگیاں بھی خطے میں پڑ جائیں گی جبکہ ان کا کسی تنازعہ سے تعلق نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام فریق تحمل دانش مندی اور باہمی احترام کے سات مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں کی بجائے، سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ اس سے عالمی امن اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی نئی راہیں ہموا رہوں گی۔




