بدھ مت اور گندھارا ورثے کے تحفظ کیلئے بھرپور اقدامات

اسلام آباد /ٹیکسلا (بیوروچیف /نامہ نگار)وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے تاریخی ٹیکسلا میوزیم میں منعقدہ انٹرنیشنل ویساک ڈے 2026ء عقیدے، ثقافت اور مشترکہ ورثے کا سنگم میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور پاکستان کے بدھ مت اور گندھارا تہذیب کے عظیم ورثے کے تحفظ، فروغ اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب میں مختلف بدھ ممالک کے سفارتکاروں، ممتاز راہبوں، محققین اور زائرین نے شرکت کی، جن میں بالخصوص تھائی لینڈ اور سری لنکا سے آنے والے مہمان شامل تھے۔ یہ تقریب حکومتِ پنجاب، نیپال، تھائی لینڈ، جاپان، ویتنام اور سری لنکا کے سفارت خانوں کے تعاون سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد پاکستان کے بدھ ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔تقریب کے دوران بدھ تہذیب کی تاریخ، آثارِ قدیمہ کی دریافتوں، نوادرات کی بحالی، اور پاکستان کے مختلف عجائب گھروں میں محفوظ بدھ ورثے پر مبنی دستاویزی فلمیں پیش کی گئیں۔ نیپال کے سفارت خانے کی جانب سے بدھ مت کے مقدس مقام لمبنی پر پیش کی گئی دستاویزی فلم کو شرکا نے بے حد سراہا۔خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی نے کہا کہ ویساک کا دن گوتم بدھ کی ولادت، روشن ضمیری اور مہاپرینروان کی یاد دلاتا ہے، جو امن، برداشت، ہمدردی اور دانائی جیسے آفاقی اصولوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسلا اور گندھارا بدھ تاریخ میں نہایت مقدس اور اہم مقام رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہنشاہ اشوک کے دور میں بدھ مت اس خطے میں صدیوں تک فروغ پاتا رہا، جس کے نتیجے میں خانقاہوں، اسٹوپاں، علمی مراکز اور عالمی شہرت یافتہ گندھارا فن کی بنیاد پڑی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اس عظیم ورثے کا امین ہے اور حکومت اس کے تحفظ، بحالی اور عالمی سطح پر ترویج کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آثارِ قدیمہ کے مقامات کے بہتر انتظام، جدید تحفظی طریقوں، اور پائیدار ثقافتی سیاحت کے فروغ کے لیے مختلف منصوبے جاری ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے بین الاقوامی ماہرین، اداروں اور شراکت داروں کے تعاون کو بھی سراہا، جنہوں نے پاکستان میں بدھ ورثے کی تحقیق، بحالی اور ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔اورنگزیب خان کچھی نے وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز اور سینئر وزیر برائے ثقافتی امور مریم اورنگزیب کی گندھارا تہذیب کے تحفظ کے لیے کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے محکمہ سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر پنجاب کے کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ وفاقی وزیر کے مشیر سید عثمان طاہر کی تنظیمی خدمات کو بھی سراہا۔تھائی لینڈ کے معروف راہب موسٹ وینریبل انیل ساکیہ نے اس موقع کو بدھ دنیا کی تاریخ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور پاکستان کی بدھ ورثے کے تحفظ میں خدمات کو قابلِ ستائش قرار دیا۔سری لنکا کے موسٹ وینریبل تھیبو نے بدھ تعلیمات کے امن اور ہمدردی کے پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کی مہمان نوازی کی تعریف کی اور ایسے پروگراموں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔گندھارا ورثے کے سفیر عمران شوکت نے پاکستان کی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد گندھارا تہذیب کو فروغ دینا اور بدھ نوادرات کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت گندھارا تہذیب سمیت قیمتی ورثے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔تقریب کی ابتدا میں وفاقی وزیر ثقافت اور بدھ مت ممالک کے سفیروں نے پودا بھی لگایا۔تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی نے جاپان کے سفیر سمیت دیگر سفارتکاروں، ممتاز راہبوں، حکام اور شریک ممالک کے نمائندگان میں یادگاری تحائف تقسیم کیے۔یہ تقریب پاکستان کے بدھ ورثے کے عالمی فروغ، بین الثقافتی ہم آہنگی، اور ثقافتی سفارت کاری کے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں