کراچی ( بیو رو چیف )جب جسم میں خون کا بہاؤ گھٹ جاتا ہے تو نظام ہاضمہ کا عمل بھی سست ہو جاتا ہے۔وقت کے ساتھ ایسا ہونے سے آنتوں کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور اکثر قبض، ہیضے یا پیٹ درد کا سامنا ہوتا ہے۔سینے میں تکلیف یا انجائنا دل کے مسلز تک خون کا بہاؤ گھٹ جانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔اگر جسم میں خون کی گردش ناقص ہو جائے تو دل کو مناسب آکسیجن اور اجزا نہیں مل پاتے جس سے سینے میں تکلیف اور کھچا ؤکا سامنا ہوسکتا ہے۔مگر ایسا کیوں کرنا چاہیے؟ کیونکہ بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے سے سنگین پیچیدگیوں جیسے فالج، ہارٹ اٹیک یا ہارٹ فیلیئر سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔امریکا کے مانٹ سینائی ہاسپٹل کے امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر ایوان لیوین کے مطابق کیا آپ ہائی بلڈ پریشر کی سب سے عام علامت کے بارے میں جانتے ہیں؟انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بلڈ پریشر کی علامات کے بارے میں بتایا جن میں سے ایک اس کی سب سے عام علامت بھی ہے۔مگر سب سے عام علامات سے قبل ان نشانیوں کو جان لیں جن کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر کی عام ترین علامات میں شدید سردرد، بینائی دھندلانا، سانس لینے میں مشکلات وہ بھی آرام کرتے ہوئے، سینے میں تکلیف جو اس وقت محسوس ہو جب آپ چل رہے ہوں اور ناک سے خون بہنا شامل ہیں۔اسی طرح ایک اور علامت جھاگ دار پیشاب ہوتا ہے کیونکہ بلڈ پریشر بڑھنے پر پیشاب کے ذریعے پروٹینز کا اخراج زیادہ ہونے لگتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہائی بلڈ پریشر کی سب سے عام علامت یہ ہے کہ آپ میں کوئی علامات ہی ظاہر نہ ہوں اور اسی وجہ سے اس مرض کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ یہی وجہ ہے کہ 35 سال کی عمر کے بعد ہر سال کم از کم ایک بار بلڈ پریشر ضرور چیک کرانا چاہیے۔




