ویسے تو مجموعی طور پر فطرت کا ایک اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس مزاج کے پیچھے کون ہوتا ہے کاش ہم یہ بات سمجھنے کی کوشش کرتے۔ بدقسمتی سے آنکھیں، دل اور دماغ ہونے کے باوجود ہم یا تو کسی مصلحت کا شکاررہے ہیں یا پھر ہمارے ہاں کانسپٹ کی کلیریٹی ہی نہیں تھی۔ ہم بالکل ہی اندھے اور بہرے لوگ ہیں جو اپنے دائیں بائیں ہونے والے واقعات سے بالکل متاثر نہیں ہوتے ہیں حالانکہ ہم انسان ہیں اور انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ متاثر بھی ہوتا ہے اور متاثر کرتا بھی ہے بات صرف آنکھیں اور کان کھول کر رکھنے کی ہے۔ ہم ہیں کہ ہم نے قرآن کو طاق میں رکھا اور پھر بھول گئے۔ ہم نے ناظرہ قرآن کوپڑھا اور اس کے بعد ترجمے کے ساتھ الکتاب کا مطالعہ کرنا تھا پھر یہ بات بھی بھول گئے۔ یہ کون نہیں جانتا کہ ہم ایک خاص مدت کے لئے دنیا میں آئے ہیں اور پھر ہم نے ہر صورت میں رخت سفر باندھنا ہے اور ہمارا اگلا پڑاو کہاں ہوگا۔ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور شومئی قسمت ہم یہ سارا کچھ بھی بھول گئے ہیں۔ ہم تو عالم ارواح میں کئے گئے عہدوپیمان بھی بھول چکے ہیں۔ ہم تو انسانی رشتوں کا تقدس بھی بھول چکے ہیں بلکہ اپنے آپ کے بارے میں بھی بھول چکے ہیں یہ سارا کچھ اپنی جگہ ہم تو اپنے صانع اور خالق کو بھی بھول چکے ہیں۔ اور ہماری یہ بھول ہے کہ شاید وہ اوپر بیٹھا ہم کو بھی بھول چکا ہے۔ اسی بھول نے تو ہمارا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور ہماری اسی بھول پر شیطان لعین شادیانے بجا رہا ہے اور رسوائی اور پسپائی ہمارا مقدر ٹھہری اور انسان اور حیوان میں فرق۔ اس فرق کو بتانے کے لئے زبان چاہیئے اور ہماری زبان تھرتھرارہی ہے۔ ہم ٹھہرے اشرف المخلوقات۔کاش ہم اپنے آپ پر کنٹرول کر لیتے ہم اپنی نوک پلک سنوار لیتے ہم بات کرنے سے پہلے سوچ لیتے اور کوئی بھی کام کرنے سے پہلے دماغ کا استعمال کر لیتے اور سب سے اہم بات اپنے من میں جھاتی مارنے کی کوشش کرتے تو فطرت بھی ہم سے پوچھ کے اپنے رویے تبدیل کرتی۔ کام تو یہ بہت اچھا ہے بلکہ بہت ہی اچھا ہے لیکن یہ کرے کون۔ ہمارے پاس تو وقت ہی نہیں ہے ہم تو ایک دوسرے کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور ہم سے ہمارے اپنے بھی پیچھا چھڑانے کی حتی الامکان کوشش کررہے ہیں اور مجموعی طور پر ہم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے جارہے ہیں اور دھکے کھانے کے باوجود ہمیں مختلف قسم کے زہر کھانا پڑ رہے ہیں۔ پیٹ میں جب زہر بھر جاتا ہے تو پھر آنکھوں میں زہر اتر آتا ہے بلکہ خون بھی اتر آتا ہے اور یوں خون خرابہ۔ اب تو اللہ ہی مالک ہے اور کارساز ہے۔ مسبب الاسباب بھی وہی ذات ہے ویسے بھی یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ اور اسباب کی نوعیت۔ون پونی، ورائٹی، لاتعداد اور امتداد زمانہ کی بدولت ناقابل بیان۔ بیان حلفی سے اپنے آپ کو پابند بنایا جاسکتا ہے اور بقول علامہ محمد اقبال (تقدیر کے پابند نباتات و جمادات۔۔۔۔ مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند)۔ بلھے شاہ نے کیا خوب کہا تھا ” ہک نقطے وچ گل مکدی اے” اصل تو معاملہ ہی بات ختم کرنے کا ہے اور بات ختم ہونے پر ہی “تسیں اپنے گھر اسیں اپنے گھر”۔ شاید ہم بات کو بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ بھی غیر ضروری حد تک۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور حد کراس کرنے کے نتیجے میں نتائج بھیانک اور خوفناک۔گلوبل وارمنگ، کلاوڈ برسٹ، ماحولیاتی تبدیلیاں اور پھر پتہ نہیں کیا کیا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ قرآن مجید تو طوفان نوح کا بھی پتہ دیتا ہے۔ اذا زلزلت الارض زلزالھا۔ یہ آیہ مبارکہ زمین کے یک دم موڈ بدل جانے کا مکمل خاکہ پیش کرتی ہے۔ آبادیوں کا راتوں رات تہس نہس ہو جانا اور پھر آج سے پہلے جو جو کچھ ہوا ہے اس کا اجمالی خاکہ بلکہ بعض واقعات کا تو تفصیلا اور اجمالا اظہار، قرآن مجید کی بڑی منفرد فصاحت وبلاغت۔ ذرا کتاب کھول کر تو دیکھ لی جائے۔ چودہ طبق تو عددی لحاظ سے محدود ہیں اگر بات چودہ طبق سے آگے کی بھی ہوگی تو کھل کھلا کر سامنے آجائیگی۔ تاہم اس کام کے لئے دماغ کی کھڑکیاں کھولنا پڑتی ہیں اور اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔ موجودہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔ اور اپنے آپ کو متاثر ہونے والے شخص کی جگہ رکھ کر دیکھنا ہوگا۔ پتہ چل جائیگا کہ اپنے گھر کو چھوڑنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ آنکھوں سے طغیانی کے مناظر دیکھنا اور پھر اپنے آپ کو اس طغیانی میں پھنسے ہوئے دیکھنا بلکہ محض اپنے آپ کو نہیں پورے خاندان کی بیبسی اوربے چارگی ۔ دریا کا خوفناک حد تک آپے سے باہر ہو جانا اور بپھری ہوئی لہروں میں ماں بہن، باپ، بھائی اور بیٹے بیٹیوں کا پھنس جانا اور اوپر سے اول آواز کا نکل ہی نہ پانا اور اگر آواز نکلے بھی اور اس آواز پر معاشرے کا بے حس ہو جانا اور آنکھوں کے سامنے ایک ایک کرکے بچوں کا غائب ہو جانا اور ایسی صورتحال میں نعشوں کا ملنا یا نہ ملنا۔ قیامت اور وہ بھی قیامت صغری۔ مرنے والے تو مر گئے بچ جانے والا زندہ درگور ہو گیا۔ طفل تسلیاں اور وہ بھی ان گنت۔ آنسو، آہ و بقا، بے بسی، مایوسی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا۔ سارے کئے کرتے پر پانی پھر گیا اور ایک نئی کہانی۔ از سرنو۔ کتنا مشکل کام۔ راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے۔ معاشرے کا کردار اور وہ بھی صبر کی تلقین تک محدود۔ ویسے بھی ان دکھوں کا مداوا کیا کوئی کرسکتا ہے۔ کیا پانی میں بہہ جانے والے واپس لائے جاسکتے ہیں اور کیا ان خوابوں کو جو دیکھتے ہی دیکھتے دریا برد ہو گئے ہیں ان کو واپس لوٹایا جا سکتا ہے۔ جواب۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ زبانیں گنگ۔ دماغ منجمد۔ دل بوجھل اور مغلوب۔ بس صبر۔ یقینا اس موقعہ پر قرآن پھر سے آواز لگاتا ہے ان اللہ مع الصبرین۔ کاش ہم اللہ کے ہو جاتے تو ہم محفوظ و مامون ہو جاتے۔زندگی کی ساری کہانی تقدیر اور تدبیر کے گرد گھومتی ہے اور تقدیر میں انسان کا کسی حد تک اور تدبیر میں انسان کا مکمل طور پر بااختیار ہونا۔ اس نقطے کو سمجھنے اور پھر باقی سب کو بھی سمجھانے کی ضرورت ہے۔ تدبیر اور عقل کا استعمال لازم و ملزوم۔ سیلاب کی بھی ایک مینیجمنٹ ہوتی ہے اور اس عمل کے لئے سوچ بچار اور پالیسی میکنگ کی اشد ضرورت ہے۔ دریاں کے بھی رویے ہوتے ہیں ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور کسی دریائی علاقے کے باسی کے رویے کو دریا مائنڈ بھی کر سکتا ہے دریا کا بھی ایک اپنا رقبہ ہوتا ہے اور ایسے رقبوں پر ناجائز قبضے۔ واگزار کروانے کی انسانی تدبیر ناکام اور پھر دریا کا ایک وقت پر آکر قبضے چھڑوانے کا ایکشن۔ دریا کے پانی کی ایک خاص رفتار ہوتی ہے اور اس رفتار کو جب بھی کوئی کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گا دریا کے عتاب کا نشانہ بنے گا۔ ویسے دریا تقسیم کار پر یقین رکھتا ہے اور اچھے طریقے سے اس کیساتھ کوئی پانی کی تقسیم کے معاملے میں معاملا ت طے کرلے تو یہی دریا دریا دلی کا مظاہرہ کرتا ہے انسان کے سامنے گھٹنے ٹیکنا بھی جانتا ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ انسان ہوش کے ناخن لے اور ہوشمندی سے ڈیم، بیراج اور ہیڈ ورکس بنائے اور اگر کالا باغ ڈیم بنا لے پھر تو دریا کے باغ باغ ہونے کا قوی امکان ہے لیکن اس کے لئے مناسب فیوچر پلاننگ کی ضرورت ہے اور اس کام کے لئے ہم سب کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی بھی ضرورت ہے۔




