ساہیوال ( بیورو چیف)مہنگائی کے بوجھ تلے دے عوام پر بجلی کے بھاری بل ایک اور عذاب بن کر نازل ہونے لگے ہیں ساہیوال اور گردو نواح میں ہزاروں صارفین کو موصول ہونے والے بجلی کے بلوں نے غریب، مزدور، کسان سرکاری ملازمین اور سفید پوش طبقے کی پریشانیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ ضروریات پوری کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے جبکہ بجلی کے ہوشربا بلوں نے گھریلو بجٹ کا توازن مکمل طور پر بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں دیکھے، کولر اور دیگر ضروری برقی آلات کا استعمال ناگزیر ہے، تاہم معمولی اضافی یونٹس خرچ ہونے پر صارفین کو ہزاروں روپے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق 200 یونٹ کی حد عبور کرتے ہی صارفین پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے باہر ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بجلی کے نرخ یکدم بڑھ جاتے ہیں اور بل کئی گنا زیادہ آتا ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ بجلی کے بلوں میں صرف استعمال شدہ یونٹس کی قیمت ہی شامل نہیں بلکہ مختلف ٹیکسز، فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کوارٹرلی ایڈ جسٹمنٹ، جنرل سیلز ٹیکس، بجلی ڈیوٹی اور دیگر سر چار جز نے بلوں کو نا قابل برداشت بنا دیا ہے۔ متعدد گھروں میں بجلی کا بل ماہانہ راشن کے خرچ سے بھی زیادہ آرہا ہے، جس کے باعث لوگ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ تاجر برادری، کسان تنظیموں اور سماجی حلقوں نے کہا ہے کہ ایک طرف کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب بجلی کے مسلسل بڑھتے ہوئے نرخ عوام کی قوت خرید کو ختم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو غریب اور متوسط طبقے کے لیے بجلی کا استعمال بھی خواب بن کر رہ جائے گا۔




