پاکستان میں غذائی کمی اور وزن کی کمی کا مسئلہ خاص طور پر نوجوانوں، طلبا، محنت کشوں اور بعض اوقات بزرگ افراد میں دیکھنے میں آتا ہے۔ ایسے حالات میں قدرتی اور غذائیت سے بھرپور غذائوں کا استعمال نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔ بھنگ کے بیج انہی قدرتی نعمتوں میںسے ایک ہیںجنہیںاکثرنظراندازکیاجاتاہے حالانکہ یہ بہت سیاہ مغذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں اورصحتمندوزن بڑھانے میں مددفراہم کرسکتے ہیں۔ بھنگ کے بیج صدیوںسے مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتے آئے ہیں۔ پاکستان میں بھی دیہی علاقوں میں یہ بیج کسی حدتک استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن شہری علاقوں میں عوام کی اکثریت انکے فوائد سے ناواقف ہے۔ ان بیجوںکی خاص بات یہ ہے کہ ان میں پروٹین، صحت مند چکنائیاں، معدنیات اور ریشہ پایا جاتاہے۔ ایک چمچ بھنگ کے بیجوں میں تقریبا ایک سوساٹھ سے ایک سو سترکیلوریز پائی جاتی ہیں، جووزن میںاضافے کے لیے ایک مناسب اورقدرتی ذریعہ بن سکتی ہیں۔وزن بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان روزانہ اپنی ضرورت سے زیادہ توانائی حاصل کرے۔ بھنگ کے بیج چونکہ توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں، اس لیے ان کا باقاعدہ استعمال روزمرہ کیلوری کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان میں موجود اومیگا تین اور اومیگا چھ جیسے صحت مند چکنائیاں جسم میں توانائی کا ذخیرہ بڑھاتی ہیں اور جسم کو اندرونی طور پر مضبوط بناتی ہیں۔ یہ چکنائیاں دل کی تندرستی کے لیے بھی مفید ہیں اور کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔بھنگ کے بیجوں میں پروٹین کی مقدار بھی قابلِ ذکر ہے۔ پروٹین جسم میں پٹھوں کی افزائش اور مرمت کے لیے نہایت ضروری عنصر ہے۔ جن افراد کا وزن کم ہو اور وہ پٹھوں کی کمی کا شکار ہوں ان کے لیے پروٹین کا باقاعدہ استعمال اہم ہوتا ہے۔ بھنگ کے بیجوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں مکمل پروٹین پایا جاتا ہے یعنی ایسے تمام ضروری امینو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو جسم خود پیدا نہیں کر سکتا۔ یہی خصوصیت انہیں دیگر پودوں سے مختلف اور بہتر بناتی ہے۔وزن بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ غذا ہضم بھی آسانی سے ہو، کیونکہ اگر غذا ہضم نہ ہو تو جسم کو غذائیت حاصل نہیں ہوتی۔ بھنگ کے بیجوں میں موجود ریشہ نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے اور خوراک کی مناسب جزو بندی میں مدد کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف وزن میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔بھنگ کے بیجوں کو خوراک میں شامل کرنا بھی بہت آسان ہے۔ انہیں دلیے، دہی، سلاد، روٹی یا اسموتھی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف غذائیت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ کھانے کا ذائقہ بھی بہتر بناتے ہیں۔ دیسی گھی یا مکھن میں ملا کر ان بیجوں کو صبح ناشتے میں استعمال کیا جائے تو وزن بڑھانے کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کا استعمال اعتدال سے کرنا ضروری ہے کیونکہ ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔بھنگ کے بیجوں کے بارے میں بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ نشہ آور ہوتے ہیں یا ان کے استعمال سے کسی قسم کی ذہنی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو سراسر غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھنگ کے بیجوں میں نشہ پیدا کرنے والا کوئی عنصر نہیں پایا جاتا۔ یہ بیج محفوظ، قدرتی اور صحت بخش غذا کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان بیجوں کو سپر فوڈ کا درجہ دیا جا چکا ہے اور کئی ممالک میں انہیں غذائی سپلیمنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان میں بھنگ کے بیجوں کی مقامی پیداوار ممکن ہے اور اگر حکومت اور زرعی ماہرین اس کی طرف توجہ دیں تو نہ صرف صحت مند غذا کا حصول ممکن ہو گا بلکہ معیشت میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ دیہی علاقوں کے کسان ان بیجوں کی پیداوار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ شہری آبادی ان سے بھرپور غذائیت حاصل کر سکتی ہے۔حالیہ سائنسی تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ بھنگ کے بیج جسمانی صحت کو بہتر بنانے اور توانائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ یہ بیج میٹابولزم کو بہتر بناتے ہیں جس سے غذا بہتر ہضم ہوتی ہے اور جسم کو مطلوبہ غذائی عناصر ملتے ہیں اگرچہ یہ بیج براہِ راست وزن بڑھانے کا باعث نہیں بنتے، لیکن ان کی مسلسل اور متوازن مقدار میں استعمال سے مجموعی صحت میں بہتری آتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی وزن بھی آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔کچن جرنلر اپریل، 2025کی ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ بھنگ کے بیجوں کی غذائی خصوصیات کو سمجھتے ہوئے انہیں متوازن اور شعوری انداز میں اپنی خوراک میں شامل کریں تو بھنگ کے بیج وزن کو متوازن رکھنے والی غذا میں قیمتی اضافہ ثابت ہو سکتے ہیں بشرطیکہ انہیں صحت بخش غذا کا حصہ بنا کر استعمال کیا جائے تو آپ ان بیجوں کے غذائی فوائد حاصل کرتے ہوئے صحت مند وزن برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اکیڈمک ایکسیس پبلیکیشن کی جولائی، 2021 میں شائع ہونیوالی ایک تحقیق کے مطابق، موٹے نر چوہے جن کی تعداد چھ تھی کو آٹھ ہفتے کی عمر میں مزید چار ہفتوں تک یا تو پسے ہوئے بھنگ کے بیج جو کے مجموعی خوراک کا 12 فیصد تھے یا بھنگ کے بیجوں کے تیل کی شکل میں چکنائی جو کے مجموعی خوراک کا 4 فیصد تھی دی گئی۔یہ تحقیق بھنگ کے بیجوں اور ان کے تیل کے وزن، میٹابولزم اور جسمانی افعال پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی تھی۔بھنگ پر مبنی خوراک کی سپلیمنٹ موٹاپے اور اس کی پیچیدگیوں کی افزائش کو روکنے میں ناکام رہی اگرچہ اس کے استعمال سے کولیسٹرول میں کمی، خون کی نالیوں کے افعال میں کچھ بہتری اور خون کے پلازما میں اینٹی آکسیڈنٹ کی حالت میں تبدیلی دیکھی گئی۔ مجموعی طور پر بھنگ کے بیج ایک سادہ مگر طاقتور ذریعہ ہیں جو ان افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں جو وزن کی کمی کا شکار ہیں اور قدرتی انداز میں وزن بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے استعمال کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور آرام بھی وزن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس صورت میں آپ بھی وزن بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں تو بھنگ کے بیجوں کو اپنی روزمرہ غذا میں شامل کر کے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اگر حکومت، ماہرین غذائیت اور عوام مل کر اس قدرتی نعمت کی اہمیت کو سمجھیں تو یہ نہ صرف صحت کے لیے مفید ہو گی بلکہ ایک نیا زرعی اور معاشی موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔ بھنگ کے بیجوں کے بارے میں شعور پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی آنیو ا لی نسلوں کو غذائی کمی جیسے سنگین مسئلے سے بچا سکیں۔




