جدید طبی غذائیت :محض ڈائیٹنگ نہیں بلکہ علاج کا حصہ

عام طور پر جب ہم ”ڈائیٹنگ” کا لفظ سنتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں وزن کم کرنا، پتلا ہونا یا صرف سلاد پتے کھانا آتا ہے۔ لیکن طبی سائنس کی دنیا میں غذا کا تصور اس سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع ہے۔ جدید طبی غذائیت (Advanced Clinical Nutrition)محض وزن گھٹانے کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ سائنس ہے جہاں غذا کو بطورِ “دوا” استعمال کر کے پیچیدہ بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔طبی غذائیت (Clinical Nutrition) کیا ہے؟طبی غذائیت سے مراد مریض کی بیماری، اس کی جسمانی حالت، لیبارٹری ٹیسٹ اور میٹابولزم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مخصوص غذائی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ اسے میڈیکل نیوٹریشن تھراپی (MNT)بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کام ایک عام جم ٹرینر یا ٹوٹکے بتا نے والا شخص نہیں، بلکہ ایک ماہرِ غذائیت (Registered Dietitian)ہی انجام دے سکتا ہے۔ یہ عام ڈائیٹنگ سے کیسے مختلف ہے؟ایک عام ڈائیٹ پلان صحت مند افراد کے لیے ہوتا ہے، جبکہ طبی غذائیت کا مرکز *”مریض”* ہوتا ہے۔ 1بیماری کی نوعیت: یہاں مقصد صرف کیلوریز گننا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ کون سا جزو بیماری کو بڑھا رہا ہے اور کون سا اسے ٹھیک کر سکتا ہے۔2انفرادی تشخیص: ہر مریض کا جسم مختلف ردعمل دیتا ہے۔ ایک گردے کے مریض کے لیے پروٹین زہر ہو سکتا ہے، جبکہ ایک زخم بھرنے والے مریض کے لیے یہی پروٹین زندگی بچانے کا ذریعہ ہے۔3 کلینیکل مانیٹرنگ: اس میں باقاعدگی سے خون کے ٹیسٹ (جیسے یوریا، کریٹنائن، گلوکوز)دیکھ کر غذا میں تبدیلی کی جاتی ہے۔علاج میں کلینیکل نیوٹریشن کا اہم کردار . دائمی امراض پر قابو (Chronic Diseases) ذیابیطس (Diabetes)، ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب میں غذا کا کردار 70فیصد ہوتا ہے۔ جدید طبی غذائیت کے ذریعے نہ صرف شوگر لیول کو کنٹرول کیا جاتا ہے بلکہ جسم کے اندرونی سوزش (Inflammation)کو بھی کم کیا جاتا ہے۔سرجری کے بعد صحتیابیبڑی سرجری کے بعد جسم کو ٹشوز کی مرمت کے لیے عام حالات سے کہیں زیادہ غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرینِ غذائیت مخصوص “ایمونو نیوٹریشن” (Immuno-nutrition) کے ذریعے مریض کے زخم بھرنے کی رفتار کو دوگنا کر دیتے ہیں، جس سے ہسپتال میں قیام کا وقت کم ہو جاتا ہے۔ . کینسر اور کمزوریکینسر کے دوران کیموتھراپی مریض کی بھوک ختم کر دیتی ہے۔ ایسی صورتحال میں “ہائی پروٹین، ہائی کیلوری” فارمولا غذائیں مریض کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ علاج کی تکلیف برداشت کر سکے۔مصنوعی طریقے سے غذا کی فراہمی (Enteral & Parenteral)جب مریض منہ کے ذریعے کھانا کھانے کے قابل نہ ہو (مثلاً بے ہوشی یا گلے کا کینسر)، تو جدید طبی غذائیت میں ٹیوب (Tube Feeding)یا رگوں کے ذریعے (IV Nutrition) براہِ راست خون میں غذائیت پہنچائی جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ICU میں موجود لاکھوں مریضوں کی جان بچاتی ہے۔ معاشرے میں آگاہی کی ضرورتہمارے ہاں بدقسمتی سے ہسپتالوں میں ادویات پر تو لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن مریض کی غذا پر توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ:”اگر غذا غلط ہے تو دوا اثر نہیں کرے گی، اور اگر غذا درست ہے تو دوا کی ضرورت کم پڑ جائے گی۔”خلاصہ۔ جدید طبی غذائیت اب ڈاکٹری علاج سے الگ کوئی چیز نہیں رہی، بلکہ یہ علاج کا ایک لازمی ستون بن چکی ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز کسی دائمی بیماری میں مبتلا ہے، تو صرف دوا پر انحصار نہ کریں، بلکہ ایک مستند کلینیکل ڈائیٹیشن سے رجوع کریں تاکہ غذا کو آپ کی شفا کا ذریعہ بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں