یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حج عمرے کے لیے مال واسباب’ طاقت واختیار سے زیادہ طلب’ لگن’ تڑپ اور آرزو کا عمل دخل ہے، ہزاروں بلکہ لاکھوں مثالیں موجود ہیں کہ اکثر مال واسباب والے تڑپ نہ ہونے کی وجہ سے اس عظیم سعادت سے محروم رہ جاتے ہیں جبکہ لگن وتڑپ رکھنے والے اسباب’ مال دولت اور طاقت کے بغیر بھی خدا کے گھر خانہ کعبہ اور محبوب خدا حضرت محمد مصطفےٰۖ کے دراقدس پر حاضری کا شرف حاصل کر لیتے ہیں، اس ساری تمہید کا مقصد سوات کے رہائشی بابا جی کی عمرہ مبارک کی سعادت حاصل کرنے کی روداد بیان کرنا ہے۔ 65سالہ بابا جی ضلع سوات کے علاقے میں ایک ہوٹل پر باربی کیو بنانے کا کام کرتے تھے، اس جہان میں کوئی کسی منصب پر فائز ہے تو کوئی ملازمت کر رہا ہے، بے شک! اﷲ تعالیٰ نے اس کائنات رنگ وبو میں بعض انسانوں کو دوسروں سے افضل وبرتر بنایا ہے اور انبیاء علیہم السلام کو دوسرے انسانوں پر فضیلت بخشی اور پھر انسانوں میں اولیائے کرام’ علمائ’ عابدین وزاہدین کو بقیہ لوگوں پر اور عام مومنین کو کفار ومشرکین پر فضیلت بخشی ہے، اسی طرح مخصوص ومقدس مقامات کو دوسرے مقامات پر فوقیت بخشی گئی ہے، خانہ کعبہ اور روضہ محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ مقدس مقامات ہیں جہاں پر جانے کیلئے ہر عاشق رسولۖ کا دل بیقرار رہتا ہے، خانہ کعبہ اﷲ تعالیٰ کا گھر ہے اور وہاں پر قدرت خداوندی کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ دنیا کے گوشے گوشے سے اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور حج کے مہینے میں تو مکہ مکرمہ میں انسانی سروں کا سمندر نظر آتا ہے، دنیا کی تخلیق کا مقصد عبادت ہے، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کے لیے روئے زمین کی ابتدا اسی جگہ سے فرمائی جس جگہ خانہ کعبہ بنا ہوا ہے، یہ خصوصیت صرف خانہ کعبہ کو حاصل ہے دنیا کی کسی دوسری جگہ کو نہیں ۔ علامہ بیہقی کی شعب الایمان میں ، حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ترجمہ: روئے زمین کا اولین حصہ جو زمین (کی صورت) میں رکھا گیا وہ بیت اللہ کی جگہ ہے، پھر اس سے زمین پھیلائی گئی۔خانہ کعبہ ہی کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ وہ روئے زمین میں انسانوں کی سب سے پہلی عبادت گاہ ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں :ترجمہ: بلاشبہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ مکہ میں ہے، وہ بابرکت اور انسانوں کے لیے ہدایت کاذریعہ ہے۔ترجمہ: اللہ تعالی کی عبادت کے لیے روئے زمین پر جو اولین مسجد بنی وہ مسجد حرام ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے۔مدینہ منورہ کے بھی بے شمار فضائل ہیں، حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منور کی سرزمین’ اس کے پھل’ پیمانے کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے، حدیث نبویۖ ہے کہ لوگ باغ کا سب سے پہلا پھل دیکھتے تو اس کو لیکر محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپۖ اس کو لے لیتے اور دعا فرماتے ہیں کہ اے اﷲ ہمارے پھل میں برکت عطا فرما، ہمارے شہر میں برکت عطا فرما، ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، اے اﷲ بیشک ابراہیم تیرے بندے، تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور بے شک! انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی اور میں بھی مدینہ کے لیے اسی طرح کی دعا کرتا ہوں جیسا کہ ابراہیم نے مکہ کے لیے کی اور اس سے زیادہ، روضہ رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا شرف وہ عظیم سعادت ہے کہ یہ جسے حاصل ہو جائے اس پر آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت واجب ہو جاتی ہے، ضلع کے سوات کے 65سالہ بابا جی کے خانہ کعبہ اور روضہ رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے نظارے کرنے کی خواہش کس طرح پوری ہوئی، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے، یہ بابا جی حسب معمول سوات کے ایک ہوٹل میں بار بی کیو بنانے کا کام کر رہے تھے جس کے دوران بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا تصور آنے پر ان کی آنکھیں چھلک پڑتیں اور وہ ان مقدس مقامات پر حاضری کی دعائیں مانگنے لگتے، ان کو عمرہ کرنے کی شدید خواہش تھی مگر مالی اسباب نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی خواہش کا اظہار کسی سے نہ کرتے’ عمرہ کی سعادت اور روضہ رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا شرف ملنے کیلئے رب کریم کی بارگاہ میں رو رو کر التجائیں کرتے تھے، ایک دن ان کی دعائیں قبول ہو گئیں، زبیر ریاض معروف یوٹیوبر اور مدینہ طیبہ کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے معلم کی حیثیت سے 17سال مسجد نبویۖ میں گزارے، مدینہ منورہ کے حوالے سے ان کے ولاگز کو بڑی شہرت ملی، وہ پاکستان بھی آتے جاتے رہتے ہیں، ایک بار وہ سوات کے ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کیلئے رکے تو 65سالہ بابا جی سے ملاقات ہو گئی اور انہوں نے جب بتایا کہ میں مدینہ منورہ سے تعلق رکھتا ہوں تو باباجی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، زبیر ریاض کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ میری عمرہ کرنے کی بڑی آرزو ہے، میرے پاس تھوڑی سی زمین ہے وہ فروخت ہو جائے تو میری یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے، زبیر ریاض نے بابا جی سے کہا کہ آپ کو زمین فروخت کرنیکی ضرورت نہیں ہے، ان سے موبائل فون نمبر لیا اور اپنا موبائل فون نمبر انہیں دیدیا اور سارے انتظامات خود کر کے بابا جی کو عالی شان طریقے سے عمرہ کروایا، مدینہ منورہ پہنچنے پر ان کا والہانہ استقبال کیا گیا، یہ 65سالہ باباجی جب عمرہ کرنے کیلئے روانہ ہوئے تو ان کے پاس ایک بیگ تھا، معروف یوٹیوبر زبیر ریاض نے انہیں عالیشان ہوٹل میں ٹھہرایا، بہترین کھانوں سے تواضع کی، اپنی ذاتی گاڑی میں انہیں شاپنگ کرواتے رہے، انہیں شاہی مہمان سے زیادہ اچھے طریقے سے رکھا گیا اور بابا جی جب واپس آئے تو معروف کمپنیوں کے اسٹورز سے خریدا گیا قیمتی سامان بھی ان کے ساتھ تھا اور مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ میں حاضری کا شرف ملنے پر انہیں جو خوشی ملی اسے الفاظ میں قلمبند نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لئے کیا خوب کہا گیا ہے کہ
جسے چاہا در پہ بلا لیا
جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے




