امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے دین اسلام کی آبیاری کر کے علم صداقت کو ہمیشہ کیلئے سربلند کر دیا، حق سچ پر ہونا بہت بڑی خوش بختی ہے اور جو حق پر ہوتے ہیں ان کو ہی اﷲ تعالیٰ ہمیشہ زندہ رکھتا ہے، حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں نے کربلا کے تپتے ریگزاروں میں دین اسلام کی سربلندی کیلئے جو عظیم قربانی پیش کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، یزید نے جب اسلامی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی شروع کر دی تو امام عالی مقام اپنے نانا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو بچانے کیلئے میدان عمل میں آ گئے، حق سچ کی سربلندی کیلئے آپ نے اپنے خاندان اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ باطل کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا، آپ علیہ السلام کے خاندان کے افراد اور جانثار ساتھی جام شہادت نوش کرتے رہے، امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام نے اس موقع پر جس جرأت وبہادری اور صبر واستقامت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے، بے شک!
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
دین اسلام سے دو شاخیں نکلتی ہیں، ایک اہلبیت اطہار، دوسرے صحابہ کرام، اور اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے کہ محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام کی شان بیان فرمائی ہے اور حسنین کریمین کی شان کے کیا کہنے، حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جنتی نوجوانوں کے سردار ہونے کی نوید سنائی، آقا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بیت علیہم السلام سے محبت کی حد درجہ تلقین فرمائی، حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت 5شعبان المعظم 4ھ کو ہوئی، یوم عاشورہ کو آپ کی نسبت سے شہرت ملی، اسلام میں یومِ عاشور یعنی 10محرم الحرام کو بہت اہمیت حاصل ہے اس دن بہت سے واقعات رونما ہوئے مثلاً حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا کوہِ جودی پر ٹھہرنا ، حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت، حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کا دریائے نیل سے پار ہونا اور فرعون کا اپنی قوم سمیت (دریائے نیل میں ) غرق ہونا وغیرہ لیکن اس دن کو سب سے زیادہ شہرت اس بات سے ملی کہ اسی دن سیدنا امامِ حسین علیہ السلام اور آپ کے خاندان اور رفقا کو بھوک اور پیاس کی حالت میں میدانِ کربلا میں نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ واقعہ کربلا حق و باطل کی پہچان کرواتا ہے اسلام کی سر بلندی کے لئے نواسہ رسول امام عالی مقام حسین ابن علی نے قربانی کی وہ عظیم داستان رقم کی، حضرت امام حسین نے اپنے خاندان اور اصحاب کو اللہ کی راہ میں قربان کردیا۔انہوں نے اپنی جان کا کا نذرانہ پیش کرکے ثابت کردیا کہ ظالم کے آگے کبھی سر نہیں جھکانا چاہیے بلکہ دین کی عظمت پر اپنی جان اور مال سب کچھ لٹا دو۔ یزید کا دنیا میں نام و نشان تک مٹ گیا ہے جبکہ امام حسین کی یاد میں تمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے مجالس و محافل کا انعقاد کرکے ان کی عظیم قربانی کی یاد مناتے ہیں۔ دین کی بلندی کے لئے ہمیشہ آل محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی دی ہے۔ آج دنیا کے کونے کونے میں اذان کے ذریعے اللہ کی شان بیان ہوتی ہے یہ سب امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا صلہ ہے انہوں نے یزید کی بیعت کرنے کی بجائے اللہ کی راہ میں جان دینے کو بہتر جانا اور اپنے نانا رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی عظمت پر شب خون مارنے والے اسلام دشمن عناصر کے منصوبے خاک میں ملا دیئے۔واقعہ کربلا ہمیں انسانیت کا درس دیتا ہے۔ یزید کے مظالم پر انسانیت آج بھی خون کے آنسو روتی ہے قیامت تک ہر درد دل رکھنے والا کربلا کے واقعے کو یاد کرکے روتا رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کا ہدف اس کے ماسوا اور کچھ نہیں تھا کہ اپنے اور اپنے بعد آنیوالے معاشروں کی اصلاح فرمائیں تبھی تو فرمایا تھا میں اس لئے مدینہ چھوڑ رہا ہوں کہ امت کی اصلاح کروں۔ آپ نے یزید کے خلاف علم جہاد اس لئے بلند کیا کہ اس نے بیت اللہ الحرام اور روضہ نبویۖ کی حرمت کو پامال کرنے کے علاوہ اسلام کی زریں تعلیمات کا تمسخر اڑاتے ہوئے ہر قسم کی برائیوں کو فروغ دیا اور ایک بار پھر دور جاہلیت کی باطل اقدار کو زندہ کر کے دین مبین اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ حضرت امام حسین علیہ السلام دین اسلام کے وہ محافظ ہیں جنہوں نے اپنے خون مطہر ہ سے شجر اسلام کی آبیاری کی، نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام باطل کے خلاف اٹھے اور اس طرح اٹھے کہ ایک مختصر عرصہ میں بشریت کو اس مقام پر لا کر کھڑا کردیا کہ جہاں اس کا سر فخر سے بلند تھا۔ دنیا بھر میں محرم الحرام کے دوران کربلا میں پیش آنے والے معرکہ حق وباطل کی یاد منائی جاتی ہے اور آنسو بہائے جاتے ہیں، یہ امتیاز صرف واقعہ کربلا کو حاصل ہے کہ دنیا بھر میں نواسہ رسولۖ کی اس عظیم قربانی کی یاد منائی جاتی ہے، کربلا میں جنگ نہیں ظلم ہوا تھا، امام حسین علیہ السلام اسلامی اقدار اور اصولوں کی بقاء وبحالی کیلئے میدان کربلا میں اترے تھے، ہزاروں افراد پر مشتمل یزیدی لشکر کے سامنے 72افراد پر مشتمل حسینی لشکر کا ڈٹ جانا اس بات کا ابدی ثبوت ہے کہ جنگیں ہمت’ حوصلے اور جوانمردی سے لڑی جاتی ہیں اور جب ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، وراثت میں جنت اور آغوش رسالت میں پلنے والے امام حسین علیہ السلام اگر چاہتے تو آپ کی ایک دعا سے کربلا کا نقشہ بدل جاتا، یزیدی لشکر تہس نہس ہو جاتا، لیکن آپ کی شہادت مطلوب ومقصود تھی کیونکہ اس کی بشارت آپ کے نانا نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پہلے ہی دے چکے تھے اور دین اسلام کی سربلندی کیلئے باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا پیغام دینا بھی ضروری تھا، محرم الحرام کے ان دنوں میں ہمیں چاہیے کہ غم حسین علیہ السلام میں آنسو بہا کر اپنی بخشش کا سامان پیدا کریں، یہ دن سیروتفریح پر جانے اور دعوتیں اڑانے کے نہیں بلکہ شہدائے کربلا کی یاد میں آنسو بہانے کے دن ہیں، اس حقیقت سے اہل اسلام بخوبی آگاہ ہیں کہ اہل بیت اطہار کی محبت کے بغیر ہمارا ایمان نامکمل ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شہدائے کربلا کی یاد میں محافل پاک سجائیں اور ان کی تعلیمات پر بھی پیرا ہوں، بے شک! اسی میں ہماری نجات اور اسی میں ہماری فلاح ہے۔




